بنا محنت کے کامیابی ممکن نہیں  

 
22
28692

تحریر:عاصمہ فضیلت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی بادشاہ نے اپنے ملک کے سارے عقلمند اور دانا لوگ اکٹھے کئے اور ان سے کہا میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ ایک ایسا نصاب ترتیب دو جس سے میرے ملک کے نوجوانوں کو کامیابی کے اصول کا پتہ چل جائے ۔ میں ہر نوجوان کو اس کی منزل کا کامیاب شخص دیکھنا چاہتا ہوں ۔ایک طویل عرصہ میں دانا لوگوں کی سر توڑ محنت سے ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ کر بادشاہ کو پیش کی گئی۔ بادشاہ نے کتاب دیکھتے ہی یہ کہہ کر واپس لوٹا دی کہ نوجوانوں کو یہ کتاب کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ، اس کو مختصر کر کے لاؤ۔ مزید محنت اور کوشش سے ہزاروں صفحات سے مختصر کر کے سینکڑوں صفحات پر بنا کر لائے، تو بھی بادشاہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور مزید مختصر کرنے کاحکم دے دیا۔ آخر کار ملک کے سارے دانا لوگوں کی مہینوں کی محنت اور کوشش رنگ لے آئی اور وہ کامیابی کے اصول بیان کرنے میں کامیاب ہو گے ۔وہ تھا ایک جملہ 249249 بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی ،، پس! اس جملے کو کامیابی کا سنہر ی اصول قرار دیدیا گیا ۔ اور طے پایا کہ یہی اصول محنت اور جذبہ کے ساتھ کسی کو کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رکھ سکتا ہے ۔

اگر ہم دنیا کا مشاہدہ کریں تو یہ حقیقت ہے ،بنا محنت کے کوئی کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ یہ محنت ہی ہے جو نک ووڈمین کو مسلسل تین بار ناکامی کے بعد کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے اب ساری دنیا میں پہننے کے قابل کیمروں کی تخلیق کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ مسلسل ناکامیوں کا شکار رہنے والے نک ووڈ کو محنت نے ہی دنیا کے کم ترین ارب پتی افراد کی صف میں لاکھڑا کیا ہے، اور امریکا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کیمرہ کمپنی GOPROکا مالک بن گیاہے ۔یہ محنت ہی ہے جس نے کسان کے بیٹے بل گیٹس کو دنیا کا امیر ترین شخص بنا دیا ہے۔ بل گیٹس کو کامیابی کیسی نے پلیٹ میں رکھ کے پیش نہیں کی ، بلکہ پہلی کمپنی Traf -o.Dat جس کا مقصد سڑکوں پر موجود ٹریفک کے کاونٹرز پر موجود خام مواد کو پڑھنا اور ٹریفک انجینئرز کے لئے رپورٹ تیار کرنا تھا، کی ناکامی کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور کاروباری زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے رہے ، بڑی محنت اور لکن سے کام کرتے رہے جس کے نتیجہ میں آخرکار مائیکروسافٹ دنیا کی سب سے بڑی پرسنل کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی بن کر ابھری۔یہ محنت ہی کا نتیجہ ہے ایک عام سا لڑکا بانی پاکستان بن جاتا ہے اور بعد میں قائداعظم محمد علی جناح کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔تھمسن ایڈیشن دنیا کو روشنی سے ہمکنار کرنے کے لئے نو ہزار نوسونوانے بار کوشش کرنے کے بعد بلب بنانے میں کامیاب ہو تا ہے۔یہ محنت کا ہی کرشمہ ہے کہ ملک برطانیہ میں اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کی خاطر چندہ اکھٹاکرنے والی لڑکی بارہ برس بعد برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم بنتی ہے۔اسی طرح اگر براعظم جنوبی امریکہ کو دیکھیں ، ایک فقیر کا بیٹا جو ہولی ووڈ کے سیٹ پردل میں اداکار بننے کا خواب لیئے سب کو چاہے پیش کرتا تھا، دو سال بعد جم کیری کی صو رت میں آسکرایوارڈ حاصل کرتا ہے ۔اگر ہم ان شخصیات کا مشاہدہ کریں تو واضح ہے کوئی کامیابی محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا کی ترقی ، ایجادات، تحقیق و تجس، سانئس کے کارنامے ، انجن ، ریل گاڑیاں، مواصلاتی نظام، ٹیلی فون ، ایٹمی توانائی، انسان کی چاند تک پہنچ اور ہوا، آگ اور پانی پر حکمرانی سب محنت ہی کے تو کرشمے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا ۔

نامی بغیر کوئی مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقیق کٹا نگین ہوا

یہ سچ ہے کہ بنا محنت کے کچھ بھی ممکن نہیں ، انسانی زندگی کے علاوہ اگر ہم اپنے ارد گرد حیوانات ، چرند پرند کی زندگی کا مشاہدہ کریں توبھی اس حقیقت کو چھٹلا نہیں سکتے۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے ، اس بات کو اگر ایسے لیا جائے ,,کچھ پانے کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے تو غلط نا ہو گا۔ واضح ہے تمام جاندار اشیاء کو بھی اپنی خوراک حاصل کرنے اور خود کو زندہ رکھنے کے لئے کوشش اور محنت کرنا پڑتی ہے۔پیاسا کوا اگر جھیل کے کنارے لگے درخت پرپیاسا بیٹھا رہے اور آگے بڑھ کر پانی پینے کی کوشش نا کرے تو وہ پیاسا ہی رہ جاتا ہے۔ اسے اپنی پیاس بچھانے کے لئے درخت سے اڑ کر جھیل کے کنارے آنا پڑتا ہے ۔ چیونٹی کو دانہ اکٹھا کرنے کے لئے اپنی بل سے نکلنا پڑتا ہے۔ شہد کی مکھی شہد اکٹھا کرنے کے لئے اپنے چتھے سے نکل کر ہزاروں کی تعداد میں باغات میں لگے ایک ایک پھول پر جاتی ہے۔ جنگل کا بادشاہ شکار کے لئے اپنی بل سے نکل کر جنگل کا چپا چپا چھان مارتا ہے ۔چڑیا اپنے بچوں کے لئے دانہ لانے کے واسطے فصلوں کا رخ کرتی ہے ۔اسی طرح باقی جانداربھی خود کو زندہ رکھنے کے لئے محنت کرتے ہیں جاندار اشیا ء کے علاوہ نباتات حاصل کرنے کے لئے بھی سخت محنت درکار ہوتی ہے۔ جیسے سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لئے منوں مٹی کو کھودا جاتا ہے۔ منوں مٹی کی کھدائی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے ۔ کھودی گئی مٹی کو کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ منوں مٹی کھدائی کے باوجود نتائج حسب توقع حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ پھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوئے بغیر کھدائی کے کا م کو نہایت انہماک سے انجام دیا جاتا ہے اور سونے جیسے دھات کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔اسی طرح زندگی میں ترقی اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے جسجو، انتھک محنت اور سخت جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوابوں سے تعبیر اور پھر تعمیر تک کے اس پر خطراور مشکل ترین سفر میں جان کو پکھلانا پڑتا ہے،مشکل لمحات انتہائی کھٹن مراحل اور تکلیف دہ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔بہت ہی تنگ کھائیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ تب جا کر کامیابی کے ستارے مقدر بنا کرتے ہیں۔اکثر سننے میں آتا ہے ہم کامیاب ہونا تو چاہتے ہیں، لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ کامیاب ہو سکیں۔اسے لوگ مالی مشکلات یا خاندان کی سپورٹ نا ہونے کی وجہ سے کوشش کرنے سے پہلے ہی ہمت ہار دیتے ہیں۔دراصل ایسے لوگ صرف کامیاب لوگوں کی کامیابی ، دولت اور شہرت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ،لیکن ان کی کامیابی کے پیجھے کی گئی محنت ، کوشش، اورپیش آنی والی مشکلات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔بلکہ اپنے مسائل اور حالات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ دولت، شہرت، اور کامیابی حاصل کرنا تو چاہتے ہیں لیکن محنت نہیں کرنا چاہتے ۔ یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ کا حوالا دینا چاہوں گی۔

پہلی جنگ اعظیم سے قبل جرمنی کے بادشاہ قیصر ویلیم نے سوئٹزرلینڈکا دورہ کیا ۔ قیصر ویلیم یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کہ سوئٹزرلینڈ جو کہ ایک چھوٹا سا ملک ہے ، لیکن اس کے باوجود اس کی فوج بہت منظم اور پیشہ وارنہ مہارت کی حامل ہے۔ فوجی آفسروں سے ملاقات کے دوران

قیصر ویلیم نے ایک فوجی آفسر سے سوال کیا اور کہا جرمنی کی فوج بانسبت سوئٹزرلینڈ کے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی دوگنا ہے۔ اگر وہ آپ کے ملک پر حملہ کر دے توتم کیا کرو گے؟ ایک آفسر نے اس سوال کو بڑی سنجیدگی سے سنا اور بہت سنجیدگی سے جواب دیا کہ سر بس ہمیں ایک فائر کے بجائے دو فائر کرنے ہوں گے۔ سوئٹزرلینڈ کے فوجی کا یہ جملہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ وسائل اگر کم ہوں تو کارکردگی کی زیادتی سے آپ اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔آپ کی تعداد اگر فریق کے نصف بھی ہے توآپ دوگنی محنت کر کے زندگی کے میدان میں اس کے برابر ہو سکتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر عظیم موجد، شخصیت، کاریگر یا عالم نے اپنی راحت و آرام والی

زندگی کو ترک کر کے ہی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔جو بھی کامیابی کی پرایز پے کرنے کے لئے تیار ہو ، یعنی محنت کرنے کے لئے تیار ہو،اور منزل تک پہنچانے کے راستے میں آنے والی ہر مشکلات کا ڈٹ کے مقابلہ کرے تو اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔

22 COMMENTS

  1. Excellent beat ! I wish to apprentice at the same time as you amend your website, how can i subscribe for a blog site? The account aided me a appropriate deal. I were a little bit acquainted of this your broadcast offered bright transparent concept

  2. Good post. I be taught one thing more challenging on totally different blogs everyday. It’ll at all times be stimulating to read content from different writers and follow a bit of something from their store. I’d want to use some with the content material on my blog whether or not you don’t mind. Natually I’ll give you a hyperlink in your web blog. Thanks for sharing.

  3. I must get across my love for your kind-heartedness in support of all those that should have assistance with the concern. Your personal dedication to passing the message throughout had become extraordinarily beneficial and have really encouraged folks like me to attain their objectives. Your own valuable hints and tips denotes a whole lot a person like me and still more to my colleagues. With thanks; from everyone of us.

  4. I do believe all of the concepts you have offered for your post. They’re really convincing and will definitely work. Still, the posts are very short for novices. Could you please lengthen them a bit from subsequent time? Thanks for the post.

  5. Hey just wanted to give you a quick heads up and let you know a few of the images aren’t loading properly. I’m not sure why but I think its a linking issue. I’ve tried it in two different web browsers and both show the same outcome.

  6. I needed to create you this tiny remark to finally say thank you again for the superb methods you have shown in this article. It has been surprisingly open-handed of you to make freely what some people could possibly have marketed for an electronic book to make some dough for their own end, notably considering the fact that you might well have tried it in case you desired. Those smart ideas in addition served like a fantastic way to comprehend someone else have the same fervor much like my personal own to find out great deal more in regard to this issue. I am certain there are a lot more fun moments in the future for folks who scan through your blog post.

  7. I wanted to write down a simple note to be able to appreciate you for all the precious points you are placing at this website. My time consuming internet search has at the end been paid with good quality content to go over with my pals. I ‘d state that that many of us site visitors are unquestionably lucky to be in a wonderful network with so many special professionals with great solutions. I feel rather fortunate to have used your entire site and look forward to so many more excellent moments reading here. Thanks a lot again for everything.

  8. With havin so much written content do you ever run into any problems of plagorism or copyright violation? My website has a lot of exclusive content I’ve either written myself or outsourced but it looks like a lot of it is popping it up all over the internet without my authorization. Do you know any ways to help reduce content from being ripped off? I’d truly appreciate it.

  9. The very crux of your writing whilst sounding reasonable at first, did not really work perfectly with me after some time. Someplace throughout the paragraphs you managed to make me a believer but only for a while. I however have a problem with your leaps in assumptions and one would do nicely to help fill in those gaps. When you actually can accomplish that, I could certainly be impressed.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here