مونال ریسٹورانٹ پاک فوج کی زمین پر تعمیر کیا گیا، فوجی حکام نے مارگلہ نیشنل پارک میں واقع مونال ریسٹورانٹ کی زمین واپس مانگ لی ہے، سی ڈی اے ممبر کا پارلیمانی کمیٹی میں دعوی

0
161

اسلام آباد نومبر 14 (ٹی این ایس): وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈے اے کے ممبر پلاننگ ڈاکٹر شاہد محمود نے بدھ کے روز پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں واقع مونال ریسٹورانٹ فوجی اراضی پر بنایا گیاہے جب کہ فوجی حکام اب یہ زمین واپس چاہتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے قومی اسمبلی کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بتایا ہے کہ پندرہ برس قبل سی ڈی اے کے علم میں نہیں تھا کہ جس زمین پر مونال ریسٹورانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے وہ پاک فوج کی ملکیت ہے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ دراصل مارگلہ نینشل پارک پر مشتمل 22 ہزار ایکڑ زمین پنجاب حکومت کی ملکیت تھی،جب کہ مارگلہ نینشل پارک میں فوج کو ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔ ڈاکٹر شاہد محمود نے کمیٹی کو یہ بتایا کہ یہ زمین پاک فوج کے لیے کس سال مختص کی گئی تھی،اس متعلق نہیں بتایا گیا۔سی ڈی اے کے پاس اب 16،500 ایکڑ اراضی ہے۔حکام کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ پاک فوج کو مختص کی گئی زمین نیشنل پارک کے بلکل وسط میں ہے اور اسی پر مونال ریسٹورانٹ تعمیر کیا گیا ہے۔
مونال ریسٹورانٹ 2005ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ سی ڈی اے کی ملکیت تھی۔ڈاکٹر شاہد محمود نے کمیٹی کو بتایا کہ مونال ریسٹورانٹ 10 سال کی مدت کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔سی ڈے اے حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ یہ جگہ اب خالی کر کے فوج کے حوالے کی جا رہی ہے۔کمیٹی کی چئیرمین منزہ حسن نے یہ بھی دریافت کیا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں ایک ریسٹوارنٹ کو زمین کیسے الاٹ کی گئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔
ڈاکٹر شاہد محمود نے بتایا کہ اُس وقت سی ڈی اے بوڑد نے ریسٹورانٹ کی تعمیر کی اجازت دی تھی۔بورڈ کے فیصلے سے متعلق کمیٹی کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ریسٹوانٹ کی تعمیر کی اجازت دینے کے لیے کئی افسران سے انکوائری کی گئی تاہم کسی میں بھی کامیابی نہ ملی۔کمیٹی کی چئیرمین نے سی ڈی اے سے محفوظ اراضی پر ریسٹورانٹ تعمیر کرنے سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے جوائنٹ سکریٹری سلیمان وڑائچ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ ریاستی اراضی کی حد بندی پر الجھن کی وجہ سے حکومت ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو نافذ کرنے سے قاصر ہے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1960ء میں آخری بار مارگلہ نیشنل پارک نقشہ سازی کی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here