نیب اپنے تفتیشی افسران اورپراسیکیوٹرز کی تربیت کو اولین ترجیح دے رہاہے،قمرزمان چودھری

0
178

اسلام آباد جولائی 28(ٹی این ایس ) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین قمرزمان چودھری نے کہاہے کہ نیب اپنے تفتیشی افسران اورپراسیکیوٹرز کی تربیت کو اولین ترجیح دے رہاہے کیونکہ انسانی استعداد کار میں بہتری اور ان کی عملی کوششوں اور کارکردگی کو مہمیز دینے میں تربیت کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے یہ بات نیب راولپنڈی کے زیر اہتمام نیشنل بینک ٹریننگ اکیڈمی میں نیب کے زیر تربیت تفتیشی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ نیب انسانی وسائل کی بہتری میں تربیت کی مرکزیت و اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے تمام تفتیشی افسران کیلئے معیاری سلیبس، ریفریشر کورسز، اکاونٹس سے متعلق امور کیلئے ریفریشر واستعداد کار میں بہتری کا کورس، عمومی مالیاتی قوانین، ڈیجیٹل فورینزک سوالات سے متعلق دستاویزات اور فنگر پرنٹ تجزیے کا نظام وضع کیا ہے۔ اس اقدام سے نیب کو معیاری طریقہ ہائے کار، قوانین اور ضابطوں پر یکساں اطلاق اور ان پرعمل درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب کے افسران اورپراسیکیوٹرز کی استعداد کارمیں بہتری کیلئے نیب تربیتی منصوبہ 2017ء پر موثر طریقے سے عملدرآمد جاری ہے، اس منصوبہ کے تحت افسران کی کارکردگی کو مسلسل جانچا جاتا ہے اور جائزے کے بعد انہیں تربیت دی جاتی ہے، ملائیشیا کی اینٹی کرپشن اکیڈیمی کی طرح نیب نے اپنے ہیڈکوارٹرز میں جدید خطوط پرتربیتی اکیڈیمی قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے، اس سے پہلے جدید ترین فورنزک لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جہاں ڈیجیٹل فورنزک،سوالیہ دستاویزات، فنگر پرنٹ کے تجزیہ سمیت فورنزک سے متعلق تمام جدید سہولیات میسرہیں تاکہ نیب کے تفتیش کار اورپراسیکیوٹرز مقررہ وقت کے اندر معیاری طریقہ کار اور متعلقہ وقواعد کی روشنی میں تفتیش کا عمل فوری طورپر مکمل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنے قیام سے لے کر اب تک سرکاری و نجی اداروں اور افراد کی جانب سے 3 لاکھ 43 ہزار 356 شکایات موصول ہوئی ہیں، نیب نے اس عرصہ کے دوران 11581 شکایات کی جانچ پڑتال، 7587 انکوائریاں اور 3846 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں 2808 ریفرنس دائر کئے گئے ہیں اور سزا کی مجموعی شرح 76 فیصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں لوٹے گئے 45 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔2014ء کے مقابلہ میں 2017ء میں نیب کو دوگنا شکایات موصول ہوئیں۔ نیب کو گذشتہ سالوں کے مقابلہ میں شکایات میں اضافہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کے تمام شعبے بھرپور محنت سے کام کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، نیب کو شکایات میں اضافہ نیب پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔قمرزمان چوہدری نے کہا کہ نیب نے شکایات کی جانچ پڑتال سے تحقیقات، انوسٹی گیشن اور احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ وائٹ کالر کرائم کے خلاف کارروائی کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کرنا نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔نیب نے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے سی آئی ٹی کا نیا نظام متعارف کرایا ہے جس میں ڈائریکٹر ‘ ایڈیشنل ڈائریکٹر ‘ انویسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل قونصل شامل ہیں جس کے باعث نیب کا کوئی بھی افسر تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔چیئرمین نیب نے ڈائریکٹرجنرل نیب راولپنڈی کی قیادت میں نیب کے تربیتی پروگرام کو سراہا اور تربیت کیلئے وسائل اور افرادی قوت فراہم کرنے پر نیشنل بینک آف پاکستان کے افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی میں 9درجے بہتری آئی ہے ۔بدعنوانی کی روک تھام کی کوششوں کے باعث پاکستان سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیب کی موجودہ انتظامیہ کی بدعنوانی کی روک تھام کی کوششوں کی بدولت 2013ء سے بدعنوانی کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم اور مشعل پاکستان اور پلڈاٹ جیسے اداروں نے بدعنوانی کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اس سے پہلے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ناصر اقبال نے کہا کہ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے وژن کے مطابق نیب راولپنڈی نے نیب افسران کی تربیت اور مثبت کوششوں کیلئے کپیسٹی بلڈنگ کورسز، ٹریننگ آف ٹرینرز اور ریفریشر کورسز سمیت متعدد ٹریننگ پروگرام کا منصوبہ بنایا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here