اسلام آباد 07 جنوری 2022 (ٹی این ایس): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان نےکووڈ۔19 کا مقابلہ کرنے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،اس عرصہ میں برآمدات میں 25 فیصد، ٹیکس ریونیو میں 38 فیصد، ترسیلات ز ر میں 27 فیصد اضافہ ہوا ،زرعی شعبے میں ریکارڈ آمدنی ہوئی ، صنعتی شعبے کامنافع 950 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گی
،حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسیاں، تعمیراتی صنعت کے لیے مراعات، سماجی تحفظ کے پروگرام، صنعتوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سبسڈی نے معیشت کو مستحکم رفتار سے آگے بڑھایا جس کی عالمی سطح پر مبصرین نے تعریف کی۔
جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیاو نگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت اسلام آباد میں میکرو اکنامک ایڈوائزری گروپ کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء شوکت فیاض ترین، حماد اظہر، فواد چوہدری، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، سید فخر امام، وزیرِ مملکت فرخ حبیب، وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد،معاونینِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر شہباز گل، گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر اور متعلقہ سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، عام آدمی پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات اور گزشتہ 3 سالوں میں معاشی سطح پر حکومتی کامیابیوں کا جامع جائزہ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان نےکووڈ۔19 کا مقابلہ کرنے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسیاں، تعمیراتی صنعت کے لیے مراعات، سماجی تحفظ کے پروگرام، صنعتوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سبسڈی نے معیشت کو مستحکم رفتار سے آگے بڑھایا جس کی عالمی سطح پر مبصرین نے تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے تین سال معاشی کامیابی کی کہانی ہیں کیونکہ ہمیں بہت بڑا گردشی قرضہ، برآمد مخالف پالیسیاں، غیر مستحکم مالی حالات، کم مسابقتی کاروباری ماحول اور نجی شعبے کے لیے مراعات کی کمی کی پالیسیاں ورثے میں ملی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ادائیگیوں کے بدترین توازن کے بحران، کووِڈ۔19 کی وبا کی وجہ سے معاشی مشکلات، عالمی منڈی میں اجناس کی بلند قیمتوں اور افغانستان میں انسانی بحران کے پاکستان پر بالواسطہ اور بالواسطہ اثرات کے باوجود، شرح نمو اب بھی 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پچھلی حکومت نے جو مالی بحران ورثہ میں چھوڑا اسے کامیابی سے نکلنے کے بعد معاشی استحکام کے مضبوط اقدامات اٹھائے گئے جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی تمام علاقائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ معاشی ترقی ہوئی۔
برآمدات میں 25 فیصد کا اضافہ، ٹیکس ریونیو 38 فیصد اضافے کے بعد بلند ترین سطح پر ریکارڈ کئے گئے اور ترسیلات زر میں بھی 27 فیصد اضافہ ہوا۔ مزید برآں، زرعی شعبے میں ریکارڈ آمدنی (کسانوں کو 1100 بلین روپے کی اضافی آمدن کی منتقلی)، صنعتی شعبے کا 950 بلین روپے کا ریکارڈ بلند منافع، حکومت کی آئی ٹی پالیسی کی وجہ سے آئی ٹی کے شعبے میں ترقی، آئی پی پیز سے ٹیرف کے کامیاب مذاکرات کے بعد ماہانہ گردشی قرضوں میں کمی دیکھی گئی۔
مندرجہ بالا کے علاوہ، حکومت نے احساس کے تحت سماجی تحفظ کا سب سے بڑا پروگرام شروع کرکے فلاحی ریاست کا اپنا وعدہ پورا کیا، ادارہ جاتی اصلاحات کا نفاذ کیا اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی کامیابی سے تعمیل کی جس نے ہمیں بلیک لسٹ میں جانے سے بچا لیا۔
اجلاس میں اشیاء کی بلند عالمی قیمتوں کے اثرات کو عام لوگوں تک منتقلی روکنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ تجاویز میں آمدنی میں اضافہ، لوگوں کی قوت خرید، متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر توجہ مرکوز کرنے والی سبسڈیز اور سماجی تحفظ کے پروگرام میں توسیع شامل ہے۔
وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ ملک کی میکرو اکنامک حالت کو مزید بہتر بنانے اور لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری کے لیے طویل المدتی اور قلیل مدتی منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں ۔