اسلام آباد (ٹی این ایس) سیالکوٹ کے سرحدی علاقے شکر گڑھ کے موضع ہرڑ کا مورچہ بھارتیوں کے لے ہمیشہ خوفناک خواب بنا رہے گا جس میں تعینات ایک بہادر سپو ت دشمن کی ناک میں دم کے رکھا اس کی تمام چالوں کو گنگا جمنا برد کر ڈالا دشمن کے ٹینکوں اور گولیوں کی یلغار کے سامنے ڈٹے رہنے والے بہادر فوجی کو سوار محمّد حسین کہتے ہیں جن کی کمال حکمت عملی اور فراز شناسی نے عسکری تاریخ میں سنہرے باب کا اضافہ کیا آپ گولوں کی برسٹ کے باوجود نہ صرف ساتھی سپاہیوں کو اسلحہ پھنچا تے رہے بلکہ ان کا حوصلہ بھی بلند کرتے رہے بار بار ناکامیوں کی وجہ سے دشمن تلملا رہا تھا لیکن جوان ہمت سوار محمّد حسین مسلسل زچ کر رہے تھے سوار محمّد حسین نے دشمن کے ٹینک دیکھے تاک تاک کر نشانے لے کر ١٦ ٹینکوں کو تباہ کر دیا اس دوران مشین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ سے وطن کا فرزند رتبہ شہادت پر فایز ہو گیا میدان جنگ سے شہید کا جسد خاکی لانے کی سعادت نائب رسالدار علی نواب اور لانس دفعدار عبدالرحمان حاصل ہوئی سوار محمّد حسین کو شکر گڑھ کے ایک عارضی فوجی قبرستان میں دفن کیا گیا بعد میں ان کی جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں ڈھوک پیر بخش میں دفن کر دیا گیا جنوری ١٩٧٢ میں صدر پاکستان فضل الٰہی چوہدری نے شہید کی اہلیہ کو نشان حیدر دیا ‘ ان کے بیٹے منور حسین بھی ساتھ تھےکسی بھی سپاہی کو دیا جانے والا یہ پہلا نشان حیدر ہے
شہید٣ ستمبر ١٩٦٦ کو جاتلی کے فوجی سینٹر میں جا کر بھرتی ہوے جہاں وہ اپنے دوست دل پذیر کے ساتھ اے تھے اور بعد میں٢٣ مئی ١٩٦٧ کو 20 ویں لانسر میں شامل ہوئے’ شہید کے کمانڈنگ افسر طفیل محمّد اور سیکنڈ ان کمانڈ میجر امان اللہ اپنے بہادر بیٹے سوار محمّد حسین کے غیر معمولی کارنامے پر نازاں رہے دونو ں افسران کا کہنا تھا شہید نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ہمارے لے یہ اعزاز ہے کے شہید جیسا بیٹا ہماری پلٹن کا حصّہ ہیں’ تھے اور رہیں گے ان کی شہادت کے بعد ان کے والد نے فخر سے کہا کہ میرے بیٹے کو شیر کی طرح سینے پر گولیاں لگیں بیٹے نے میرا شملہ اونچا کر دیا ہے ‘
شہید کی شہادت کے وقت ان کی صاحبزادی ٢ سال کی تھیں جبکے بیٹا منور حسین شہادت کے بعد پیدا ہوا ‘١٠ دسمبر ١٩٧١ کو سوار حسین کی شہادت کے بعد ان کی قربانی کی یاد میں ان کے گاؤں ڈھوک پیر بخش کا نام ڈھوک محمد حسین رکھ دیا گیا ‘ سوار محمد حسین شہید بوائز ہاسٹل اکتوبر ١٩٩٢ میں پاکستان آرمرڈ کور کے شہید، جاں بحق، جنگی زخمیوں اور ریٹائرڈ/ حاضر سروس جونیئر کمیشنڈ افسران اور سپاہیوں کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے قائم کیا گیایہاں مقیم طلبہ کے تمام اخراجات بورڈنگ، قیام، طبی علاج، کتابیں، اسٹیشنری، اسکول اور اضافی کوچنگ فیس وغیرہ، آرمرڈ کور سینٹر ادا کرتا ہے شہید کی یاد میں پاکستان پوسٹ نے یاد گاری ٹکٹ بھی جاری کیا













