اسلام آباد (ٹی این ایس) اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے (انسانی حقوق کا عالمی دن) دراصل اسلام کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انسانی وقار، مساوات، عدل و انصاف اور بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جو کہ قرآن و سنت میں 1400 سال پہلے سے موجود ہیں، جیسے کہ زندگی کا حق، عزت، آزادی اور مساوات کے حقوق مثلاً فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کا اعلان کردہ عمومی حقوق) جو آج کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد ہیں، جس میں غیر مسلموں کے حقوق بھی شامل ہیں اور اسلام سب کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام میں انسانی حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور قرآن و حدیث میں ان کے بارے میں واضح احکامات موجود ہیں۔اسلام میں انسانی حقوق کی بنیاد اللہ کی توحید اور انسان کی عزت و تکریم پر ہے۔
اللہ نے انسان کو اپنی روح سے نوازا ہے اور اسے اپنی خلافت کے لیے منتخب کیا ہےانسان کی زندگی کا حق ہے اور اسے کوئی بھی ناحق قتل نہیں کر سکتا انسان کو آزادی کا حق ہے اور اسے کوئی بھی غلام نہیں بنا سکتا انسان کو عزت کا حق ہے اور اسے کوئی بھی بے عزت نہیں کر سکتا انسان کو مال کا حق ہے اور اسے کوئی بھی ناحق نہیں چھین سکتا انسان کو تعلیم کا حق ہے اور اسے کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا
قرآن میں ارشاد ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی روح سے نوازا ہے اور اسے اپنی خلافت کے لیے منتخب کیا ہے (سورہ الحجرات، آیت 13)۔
اسلام میں کچھ اہم انسانی حقوق یہ ہیں:
حق زندگی: انسان کی زندگی کا حق ہے اور اسے کوئی بھی ناحق قتل نہیں کر سکتا (سورہ المائدہ، آیت 32)۔
حق آزادی: انسان کو آزادی کا حق ہے اور اسے کوئی بھی غلام نہیں بنا سکتا (سورہ البقرہ، آیت 256)۔
حق عزت: انسان کو عزت کا حق ہے اور اسے کوئی بھی بے عزت نہیں کر سکتا (سورہ الحجرات، آیت 11-12)۔
حق مال: انسان کو مال کا حق ہے اور اسے کوئی بھی ناحق نہیں چھین سکتا (سورہ البقرہ، آیت 188)۔
حق تعلیم: انسان کو تعلیم کا حق ہے اور اسے کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا (سورہ الزمر، آیت 9)۔

اسلام میں انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے بہت سے احکامات موجود ہیں۔ ان احکامات پر عمل کرکے ہم ایک بہتر معاشرہ بنا سکتے ہیں جہاں ہر انسان کے حقوق کا احترام کیا جائے
بنیادی حقوق کی ضمانت: اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اس کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ یہ حقوق صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہیں۔
عدل و انصاف: قرآن پاک میں بار بار عدل قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، “اے ایمان والو! اللہ کے لیے مضبوطی سے قائم ہو جاؤ اور انصاف کے ساتھ گواہی دو۔” (سورۃ المائدہ: 8)
زندگی کا حق: اسلام میں کسی جان کا ناحق قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، “جو کوئی کسی شخص کو (بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا زمین میں فساد مچایا ہو) قتل کرے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی، تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔” (المائدہ: 32)
مساوات اور بھائی چارہ: حجۃ الوداع کے خطبے میں نبی کریم ﷺ نے نسل و رنگ کی بنیاد پر کسی برتری کو ختم کر کے سب کو برابر قرار دیا، “کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔”
غلامی کا خاتمہ (جزوی): اسلام نے غلاموں کے حقوق پر زور دیا اور انہیں آزاد کرنے پر اجر عظیم کا وعدہ کیا، جو بتدریج غلامی کے خاتمے کی طرف ایک قدم تھا۔
عورتوں کے حقوق: اسلام نے عورت کو وراثت، تعلیم، اور معاشرتی زندگی میں حقوق دیے۔
غیر مسلموں کے حقوق: اسلام نے اسلامی ریاست میں غیر مسلموں (ذمی) کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی۔
جب اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر (1948) آیا، تو اس کے بہت سے اصول (جیسے آزادی، زندگی کا حق، مساوات) پہلے ہی اسلام میں موجود تھے۔ اسلامی تعلیمات ان عالمی حقوق کی بنیاد ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی دن کو منانے کا مقصد اسلام کی اس تعلیم کو اجاگر کرنا ہے کہ یہ حقوق اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہیں اور ان کا تحفظ کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک اہم موضوع ہے۔
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر، جسے عام طور پر انسانی حقوق کا عالمی اعلان نامہ (UDHR) کہا جاتا ہے، 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ یہ اعلان نامہ انسانی حقوق کی ایک جامع اور عالمگیر دستاویز ہے جو تمام انسانوں کے لیے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا اعلان کرتی ہے۔
اس اعلان نامے میں 30 آرٹیکل شامل ہیں جو زندگی، آزادی، مساوات، اور عزت کے حقوق سمیت مختلف انسانی حقوق کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ اعلان نامہ تمام ممالک سے ان حقوق کا احترام اور تحفظ کرنے کی درخواست کرتا ہے
۔
اہم آرٹیکلز:
آرٹیکل 1: تمام انسان آزاد اور مساوی پیدا ہوئے ہیں۔
آرٹیکل 3: ہر شخص کو زندگی، آزادی، اور حفاظت کا حق ہے۔
آرٹیکل 5: کسی کو بھی تشدد یا ظالمانہ سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
آرٹیکل 18: ہر شخص کو عقیدہ اور مذہب کی آزادی ہے۔
آرٹیکل 25: ہر شخص کو معاش اور صحت کا حق ہے۔
یہ اعلان نامہ انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے اور آج بھی اس کا احترام کیا جاتا ہے پاکستان کا آئین انسانی حقوق کا ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، پاکستان کا 1973 کا آئین اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جن میں قانون کے سامنے برابری، آزادی اظہار، اجتماع، اور مذہب کی آزادی شامل ہیں آرٹیکل 8 سے 28 تک حقوق عدلیہ کے ذریعے قابلِ نفاذ ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا تحفظ کرے، پاکستان کے آئین میں انسانی حقوق کا خاص خیال رکھا گیا ہے آئین کے چپٹر II میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے، جس میں مساوات، جان و مال کا تحفظ، آزادی اظہار، اور تحفظ تشدد سے آزادی شامل ہیں
آئین کے آرٹیکل 8 سے 28 تک بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جس میں قانون کے سامنے مساوات، جان و مال کا تحفظ، آزادی اظہار، اور تحفظ تشدد سے آزادی شامل ہیں ,
آئین پاکستان میں بنیادی حقوق;
بنیادی ضمانت: آئین کا حصہ سوم آرٹیکل 8 سے 28 تک بنیادی حقوق پر مشتمل ہے جو نسل، جائے پیدائش، ذات، عقیدے یا جنس سے قطع نظر تمام شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں.
عدالت سے رجوع: ان حقوق کی خلاف ورزی پر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے.
قانون کے سامنے برابری: سب کے لیے یکساں قانون.
تحفظ کا حق: جان، مال، اور عزت کا تحفظ.
آزادی: اظہارِ رائے، اجتماع، اور مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے.
قوانین کا کردار;
ریاست کی ذمہ داری: آئین ریاست پر شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بوجھ ڈالتا ہے.
اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت: پاکستان کے آئین میں انسانی حقوق کو اسلامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو مدنظر رکھ کر شامل کیا گیا ہے.
عدالتِ عظمیٰ نے کئی مقدمات میں انسانی حقوق کی آئینی شقوں کی روشنی میں فیصلے دیے ہیں، خاص طور پر جب دیگر قوانین میں گنجائش نہ ہو. آئین پاکستان شہریوں کو انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالتی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل (3) 184سپریم کورٹ کو عوامی مفاد کے معاملات پر عوامی حقوق کو نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 199 ہائی کورٹس کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے سرکاری ملازمین کے فیصلوں کو بنیادی حقوق کی کسوٹی سے مسابقت کروائیں۔ ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 491 کا اطلاق یہ فراہم کرتا ہے کہ عدالت کے اپیلیٹ فوجداری دائرہ اختیار کی حدود میں کسی شخص کو عدالت کے سامنے لازمی لایا جائے تاکہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جا سکے۔ پھر، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 220 کے تحت متعدد قانونی تحفظات کے ساتھ ایک بہتر طریقہ کار دستیاب ہے۔ ساختی طور پر، انسانی حقوق کا عدالتی نفاذ پوری دنیا میں طویل عرصے سے جاری ہے۔ لہٰذا، عدالتی نفاذ کے بنیادی کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی اصلاحات سے عدالتی کردار دیوانی اور فوجداری نظام میں انسانی حقوق کی عملداری کو موثر کرنے میں معاون ہو گا۔ عدالتی طرز عمل اور طریقہ کار کی بہتری سے پاکستان میں انسانی حقوق کے نفاذ میں واضح طور پر بہتری آئے گی۔ تاہم انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے انتظامیہ ( ایگزیکٹو) کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انتظامی طریقہ کار قابل، مستعد اور غیر متزلزل طور پر عملداری کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے اور انتظامی شفافیت اور مستعدی انسانی حقوق کی عملداری کے لیے بہترین مشعل راہ ہو گی آئین پاکستان انسانی حقوق کے نفاظ کے لیے مضبوط آئینی اور قانون سازی کی حمایت کی ضمانت دیتا ہے، لیکن انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے انسانی حقوق کا نفاذ مستعد نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے انسانی حقوق کا اختیار صوبوں کو منتقل کر دیا ہے۔ اس لیے صوبوں کو مضبوط اور فعال انسانی حقوق کے محکموں کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ، تحصیل و ضلع کی سطح تک انسانی حقوق کی عملداری کے لیے صوبائی محکمہ جات کو ایک فعال اور بنیادی ہیومن رائٹس سروس بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک صوبائی انسانی حقوق کے محکمہ جات مستعد اور فعال نہیں ہونگے اس وقت تک انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکے گی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کا ہمیں پتا ہونا چاہیے۔ جب تک ہمیں یہ معلوم نہیں کہ انسانی حقوق کیا ہیں ، ہم کسی طرح بھی ان کا تحفظ نہیں کر سکتے معاشرہ کوئی بھی ہو انسانی اقدار کا اس کی معاشرت کے مطابق تعین کیا جاتا ہے۔ قوانین بھی اس لیے بنا ئے گئے ہیں کہ ان حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بنیادی انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو ہمارے پاس اس لیے ہیں کہ ہم بطور انسان دنیا میں موجود ہیں۔ وہ کسی ریاست اور حکومت کی طرف سے نہیں دیے گئے ہیں بلکہ یہ آفاقی ہیں قومیت، جنس،مذہب، رنگ، نسل، زبان یا کسی اور حیثیت سے بالاتر ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک جو بنیادی حقوق ہیں۔ ہر شخص ان حقوق کا حقدار ہے۔ چاہے وہ کسی بھی ملک، شہر یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ انسانی حقوق، معاشرتی حقوق کے نہایت ضروری لوازمات ہیں جن کے بغیر کوئی بھی انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا ایک متوازن زندگی کے قیام اور انسان کی تکمیل کے لیے انسانی بنیادی حقوق ضروری لوازمات کا درجہ رکھتے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کو کسی شخص تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے کا کسی کو بھی کوئی حق حاصل نہیں۔ باضابطہ انسانی حقوق کے نظریہ کی بات کی جائے تو اس کے متعلق بہت سی جگہ اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کا باضابطہ آغاز یونان سے ہوا۔ بعدازاں اقوام متحدہ کے منشور میں بھی بنیادی انسانی حقوق کو شامل کیا گیا اور منظوری دی گئی۔
اسلامی تعلیمات میں بھی انسانی حقوق کی ادائیگی سے متعلق، مفصل احکامات ہیں۔ انسان دنیا میں آتا ہے تو ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں وہ اپنی ضروریات، حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
ارتقائی انسانی حقوق کو ثابت کرنے کے لیے کسی تحریری منشور کی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی روایات، رسم و رواج اور ثقافت بیان کرتے ہیں کہ انسان کی ابتدائی تاریخ سے ہی اسے تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ماضی میں اکثر یہ حقوق کسی نہ کسی صورت میں پامال ہوتے رہے ہیں۔ جیسے مشہور فلسفی جین جیکسن رومو کہتا ہے کہ انسان آزاد پیداہوا ہے مگر وہ آج ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔ سیموئیل موٹن کہتا ہے کہ انسانی حقوق کا تصور شہریت کے جدید احساس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
قبل از دورِ جدید اس سے متعلق کئی مثالیں موجود ہیں۔ البتہ قدیم لوگوں کے پاس آفاقی انسانی حقوق کا جدید دور کی طرح کا کوئی تصور نہیں تھا۔
اسلام حقوق العباد کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے جس میں تعمیل حقوق العباد کے سلسلے میں ایک وسیع نظام متعارف کرایا گیا ہے جسے میثاقِ مدینہ کہتے ہیں۔ جہاں مسلمانوں کے آپس کے معاملات سے لے کر غیر مسلموں کے بھی حقوق واضح کیے گئے ہیں۔ رشتہ داروں، ہمسائیوں، یتیموں، بیوائوں، یہاں تک کے جنگی قیدیوں کہ بھی بنیادی حقوق کی پاسداری دین اسلام کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے خطبہ میں بھی حقوق العباد کی مفصل ہدایات و احکام موجود ہیں۔
اسلام حقوق العباد پر اتنا زور دیتا ہے کہ حقو ق اللہ کی ادائیگی کے لیے اولین حقوق العباد کو قرار دیا گیا ہے۔ دورِ جدید کی بات کی جائے تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1948ء میں انسانی حقوق کا منشور منظور کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی حرمت، آزادی اور مساوات کو تسلیم کرنا انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔ یہ پہلا تحریری منشور تھا جس کو پوری دنیا میں لاگو کیا گیا۔
منشور میں زندگی کی بقاء، آزادی، مساوات، سب کے لیے یکساں قانون، انسانی حرمت، تعلیم اور اظہار آزادی رائے شامل ہیں۔ کسی کو اذیت دینا، ظلم کرنا، غیر انسانی سلوک کرنا، قید بے جا میں رکھنا اور جلاوطن کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے جبکہ منشور میں ریاست کو انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے 1973ء میں اسلامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو سامنے رکھتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق مرتب کر کے اسے پورے پاکستان میں لاگو کیا ۔
آئین پاکستا ن کے آرٹیکل 8سے آرٹیکل 28انسانی حقوق سے متعلق ہیں۔ آرٹیکل 8کہتا ہے ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا جو انسانی حقوق کے منافی ہو۔ ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آرٹیکل 9اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے حقِ زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 10میں درج ہے کہ اگر کوئی ملزم بھی ہو، تب بھی اسے ضروری تحفظ دیا جائے گا۔ آرٹیکل 11بیگار کی تمام صورتوں سے منع کرتا ہے۔ انسانی خرید وفروخت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ 14سال سے کم عمر کی ملازمت یا مزدوری سے منع کرتا ہے۔ آرٹیکل 14گھر کی حرمت اور خلوت کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 16ہر شہری کو ملک میں نقل و حرکت اور ملک کے کسی بھی حصے میں آباد ہونے کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 18جائز تجارت اور کاروبار کی اجاز ت دیتا ہے۔ آرٹیکل 24کے تحت کسی کو بھی اس کی پراپرٹی سے بیدخل یا محروم کرنے کی اجازت نہیں۔ آرٹیکل 25کہتا ہے سب قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ آرٹیکل 27ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 28ہر شہری کو اپنے رسم و رواج ، زبان اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیتا ہے۔ کوئی اس میںمداخلت نہیں کر سکتا۔ ان آرٹیکلز میں تفویض کیے گئے حقوق کا تعلق ہم سب سے ہے۔ اگر کہیں ان آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہو، انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہوں تو متاثرہ شخص مقامی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ انسانی حقوق کو قانون کی زبان میں سول میٹر کہا گیا ہے اس لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزی فوجداری ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتی۔
کسی بھی انسان کی عزت اور احترام معاشرتی بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہے ہمارے نصاب میں بھی انسانی حقوق کے آرٹیکلز کا شامل ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ ہائی سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر یہ تمام آرٹیکلز پڑھائے جائیں جس سے پتہ چلے کہ کسی بھی شہری کے انسانی حقوق کیا ہیں اور اگر کہیں ان ’حقوق‘ کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو حصول انصاف کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے
پاکستان نے بین الاقوامی معاہدوں پر بھی دستخط کیے ہیں، جیسے کہ بین الاقوامی معاہدہ مدنی و سیاسی حقوق ، جس میں انسانی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں سب سے پرانے تنازعات کشمیر اور فلسطین کے ہیں اور دونوں ہی حل طلب ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کر رکھا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور اصولوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہےدنیا بھر میں انصاف اور امن کے نظام کو درپیش خطرات کی بڑی وجہ یہی ہے کہ کئی عالمی تنازعات دہائیوں سے حل طلب ہیں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے پاکستان صرف اپنے خطے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہے، تاہم خطے میں امن کے لیے پاکستان کی یکطرفہ کوششیں کافی نہیں، تمام فریقین کو بامعنی مذاکرات کی طرف آنا ہوگا پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کا فوری اور منصفانہ حل نکالنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں,بین الاقوامی برادری کو کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف کردار ادا کرنا چاہیےاقوام متحدہ نے مسلم ممالک کے حقوق کو مغرب کے مقابلے میں اہمیت نہیں دی بین اقوامی برادری اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔اقوام متحدہ انسانی حقوق کے تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،اقوام متحدہ تو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا گیا تھا جب دنیا نے تباہی اور بربادی کا منظر دیکھا تھا۔ اس چارٹر کا مقصد آئندہ جنگوں کو روکنا اور بین الاقوامی صلح و سلامتی کو برقرار رکھنا ہےچارٹر کا مقصد بین الاقوامی صلح و سلامتی کو برقرار رکھنا ,ملکوں کی خودمختاری اور ترقی کے حق کو تسلیم کرنا,جنگ کی روک تھام اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے اقدامات کرنا, انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی تاکید کرناہے
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کشمیر اور غزہ کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کا چارٹر ایک تاریخی دستاویز ہے جو بین الاقوامی تعاون اور صلح و سلامتی کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔دوسری عالمی عظیم کے بعد تقریباً 50 ممالک کے نمائندے ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کے لیے امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں جمع ہوئے تھے جو دنیا کو اس قدر تباہ کن درجے کی جنگ سے ہمیشہ کے لیے تحفظ دے سکے اور امن، سفارت کاری، مساوات اور خوشحالی کے حصول میں معاون ہو۔
اقوام متحدہ کا چارٹر ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو 26 جون 1945 کو سان فرانسسکو میں امریکی صدر ہیری ٹرومن کی زیر صدارت منعقدہ کانفرنس میں منظور ہوا۔ یہ چارٹر 24 اکتوبر 1945 کو نافذ ہوا اور اقوام متحدہ کے مقاصد، اصولوں اور اداروں کی بنیاد رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کا چارٹر جنگ سے امن تک کے سفر کی داستان ہے۔ یہ چارٹر دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا گیا تھا جب دنیا نے تباہی اور بربادی کا منظر دیکھا تھا۔ اس چارٹر کا مقصد آئندہ جنگوں کو روکنا اور بین الاقوامی صلح و سلامتی کو برقرار رکھنا ہے
چارٹر پر 26 جون 1945 کو دستخط کیے گئے تھے۔ تاہم اس کا نفاذ دستخطی ممالک کے قانون ساز اداروں کی توثیق کے بعد 24 اکتوبر 1945 کو عمل میں آیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ اور ایسی قانونی دستاویز ہے جس پر عمل کرنا تمام رکن ممالک کی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی تاریخی دستاویز نیویارک میں واقع ادارے کے ہیڈکوارٹر میں24 جون 2025 کوواپس آ ئی ہے جس پر 1945 میں امریکہ کے شہر کیلی فورنیا میں دستخط کیے گئے تھے۔ ہیڈکوارٹر میں ‘سان فرانسسکو کے جذبے کا احیا’ کے عنوان سے منعقدہ ملٹی میڈیا نمائش میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے چارٹر کی واپسی کا خیرمقدم کیا تھا جو دراصل اقوام عالم کا آپس میں امن سے رہنے اور ایک دوسرے سے وقار اور تعاون پر مبنی سلوک روا رکھنے کا وعدہ ہے۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ تقریباً 80 سال پہلے منظور کیا جانے والا چارٹر اقوام متحدہ کا آغاز تھا جو ایسے تصورات اور اصولوں پر مشتمل ہے جن پر عملدرآمد کے لیے دنیا روزانہ کام کرتی ہے۔ اقوام متحدہ دور حاضر کا ایک زندہ معجزہ ہے اور اس کے مردو خواتین روزانہ اور ہر جگہ اس معجزے کی تجسیم پیش کرتے ہیں۔ یہ نمائش لوگوں کے لیے اقوام متحدہ کے قیام سے متعلق تصاویر، ویڈیو اور ایسی دستاویز کو دیکھنے کا موقع تھا جن کے ذریعے یہ عالمی ادارہ وجود میں آیاتھا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کشمیر اور غزہ کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔دونوں تنازعات کی شروعات 1947ء سے ہوئی تھی۔اقوام متحدہ نے 1948ء میں فلسطین اور کشمیر دونوں کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اور سچ یہ ہے کہ اقوام متحدہ آج تک مسلمانوں کا کوئی بھی مسئلہ حل کرانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔دنیا کی غالب اقوام کے تما م مسائل حل کرنے میں اقوام متحدہ کے ساتھ یورپی اقوام کھڑی ہو جاتی ہیں لیکن مسلم دنیاکا کوئی بھی مسئلہ ہو، اپنے ساتھ دیتے ہیں نہ اقوام متحدہ نہ اقوام عالم۔ فلسطینی اپنی ریاست بحال نہیں کر ا سکے تو کشمیریوں کو بھی اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین اور کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکامی کی وجہ سے دونوں مغربی اور جنوبی ایشیائی خطے فوجی تنازعات کی صورت میں عدم استحکام کا شکار ہوئے ہیں۔لاکھوں مرد و خواتین، نوجوان اور بچے اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے، کروڑوں زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ جب کہ شہری انفراسٹرکچر اور لوگوں کی زندگیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا حساب لگانا مشکل ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ناکامی دونوں خطوں میں موت اور بربادی لارہی ہے۔اس بربادی کے مناظر چہار جانب پھیلے ہوئے ہیں۔فلسطین اور کشمیر کے لوگ اگر اپنے اپنے خطے پرناجائز قبضوں کے خلاف مسلح مزاحمت کرتے ہیں تو یہ حق ان کو اقوام متحدہ کا چارٹر دیتا ہے۔ انہیں بین الاقوامی قانون نے بھی یہ حق دے رکھا ہے کہ وہ غیر ملکی سامراج کیخلاف جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان دونوں خطوں کے عوام کا نہ صرف قتل عام کیا جارہا ہے بلکہ ان کی بستیوں کو ملیا میٹ کیا جارہا ہے۔بھارت
کو آزادی نوآبادیات کے خاتمے کی وجہ سے ملی، لیکن کسے معلوم تھا کہ یہی بھارت آگے چل کر کشمیر میں استعمار کا روپ دھارلے گا۔ بھارت نے پون صدی تک یہی استعماری رول ادا کیا۔اس ملک میں موجود اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس پر۔اس عرصے میں اسرائیل کی پشت پناہی میں بھارت خود ’اسرائیل‘بن گیا۔ جس طرح پوری دنیا میں یہودیوں کو ایک ہی ریاست میسر آئی ہے اسی طرح ہندوؤں کو بھی ایک ہی ریاست نصیب ہوئی۔ دونوں استعماری ملک بنے اوراپنے اپنے فرسودہ مذاہب کو بچانے کے لیے وہ ہر حد پار کر گئے۔دنیا جانتی ہے کہ بھارت اوراسرائیل کا گٹھ جوڑ ایک حقیقت ہے، دونوں مشترکہ اقتصادی اور فوجی پالیسیوں اور ہتھکنڈوں کو خاص طور پر آگے بڑھا رہا ہیں۔













