اسلام آباد (ٹی این ایس) پانی ہماری لائف لائن;بھارتی آبی جارحیت’اعلانِ جنگ

 
0
19

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان زرعی ملک ہے، جہاں کروڑوں لوگ ان دریاؤں کے سہارے زندہ ہیں جو کشمیر کی وادیوں سے نکل کر پاکستان کو سیراب کرتے ہیں۔ لیکن بھارت، جو نہ صرف ایک قابض ہے بلکہ آبی دہشت گرد بھی بن چکا ہے، وہ ان دریاؤں پر ڈیمز بنا کر پاکستان کی شہ رگ کاٹنے کے درپے ہے۔
“یہ جنگ پانی پر ہوگی اور میدانِ جنگ کشمیر ہوگا!” — ڈاکٹر اسرار احمد کی یہ پیش گوئی جو آج سچ ثابت ہو رہی ہے!
ڈاکٹر اسرار احمدنے کہا تھا”پاکستان اور بھارت کی جنگ پانی پر ہوگی… اور میدان کشمیر ہوگا!”یہ جملہ آج صرف ایک وارننگ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے بگلیہار ڈیم (چناب پر)، کشن گنگا ڈیم (نیلم پر)، اور راتلے، پکل دل، کلنائی جیسے منصوبے — یہ سب بھارت کی آبی جارحیت ہے کشمیر پاکستان کی آبی شہ رگ ہے۔ اگر یہ دشمن کے قبضے میں رہا، تو پاکستان ایک ریگستان بن جائے گا دشمن بھارت آج پاکستان کا پانی روکنے کے لیے عالمی اداروں کو جھوٹا چہرہ دکھا رہا ہےپاکستان اوربھارت کے درمیان آبی تنازعہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا سبب ہے ،

پاکستان نے معاہدے کے تحت اپنے حصے کے پانی کی معطلی کی کسی بھی کوشش کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا ہے”پانی کی معطلی کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا” دراصل پاکستان کی طرف سے بھارت کے لیے ایک سخت انتباہ ہے، خاص طور پر جب چناب جیسے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی آتی ہے، کیونکہ پاکستان اسے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کی خلاف ورزی اور اپنے حقوق پر حملہ سمجھتا ہے، اور اس کا مطلب پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مقابلہ کرنا ہے جو کہ ایک بڑا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے،سندھ طاس معاہدے سے اگر دونوں میں سے کوئی ایک ملک بھی یکطرفہ طور پر نکلنا چاہے تو وہ نہیں نکل سکتا، ویانا کنونشن کے تحت کسی معاہدے سے الگ ہونے کی گنجائش ہے لیکن اس کا اطلاق سندھ طاس معاہدے پر نہیں ہوتا ،
اگر کسی طرح یہ معاہدہ ٹوٹ بھی جائے تو بھی ایسے بین الاقومی کنونشن، ضوابط اور اصول موجود ہیں جو ملکوں کے آبی مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ,پاکستان نے بھارت کے ان اقدامات کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اپنے انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے وضاحت طلب کی ہے.
پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو کمزور کر رہا ہے,سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہوا تھا، جس کے تحت دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا فارمولا طے پایا تھا حالیہ برسوں اور خاص طور پر جنوری 2026 تک اس تنازعہ میں درج ذیل اہم پیش رفت ہوئی ہے اس معاہدے کے چند اہم نکات یہ ہیں:
پانی کی تقسیم: معاہدے کے تحت دریائی پانی کا 19.48 فیصد بھارت اور 80.52 فیصد پاکستان کو دیا گیا ہے۔
مغربی دریا: سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا اکثریتی حق ہے۔
مشرقی دریا: ستلج، بیاس اور راوی پر بھارت کا خصوصی حق ہے۔
تنازع حل: معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بنائی گئی ہے۔
بھارت کی ذمہ داری: بھارت کو پاکستان کو معاہدے کے تحت پانی کی مقدار اور وقت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ کے نظام سے پانی کے حقوق ملے ہیں، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی ہو رہی ہے، جس سے پاکستان کے آبی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا ہے,
پاکستان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنےجائز حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ کے پاکستان سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہیں، بھارتی الزامات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ بھارت ایک بار پھر اپنی دہشت گردی اورعلاقائی عدم استحکام میں کردارسے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے، خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا کردار دستاویزی اورواضح ہے، کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کیخلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی واضح مثال ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نیک نیتی سےطے پانے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائے گی ترجمان نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اپنےجائز حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ بھارت پربیرون ملک ٹارگٹ کلنگ، تخریبکاری اوردہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت کےسنگین الزامات ہیں، ہندوتوا نظریہ انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ دیتا ہے،بھارتی طرزعمل اسی سوچ کاعکاس ہے، بھارت کا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں غیرقانونی اور جابرانہ فوجی قبضہ برقرار ہے اور پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھے گا۔یاد رکھیں کہ اپریل 2025 میں بھارت نے “پہلگام حملے” کے بعد سندھ طاس معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جنوری 2026 میں پاکستان نے اس بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اپنے حقوق کے تحفظ کا عزم دہرایا ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے 260 میگاواٹ کے “دلہستی سٹیج-II” پن بجلی منصوبے کی منظوری پر سخت احتجاج کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نے اس منصوبے کے بارے میں پیشگی اطلاع فراہم نہیں کی جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر تنازعہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ بھارت کشن گنگا منصوبے کو فعال کر چکا ہے، جبکہ پاکستان اس کے ڈیزائن پر اعتراض کرتا ہے۔

دریائے چناب پر زیرِ تعمیر رتلے منصوبہ مئی 2026 میں مکمل ہونا متوقع ہے، جس کے بارے میں پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ پانی کے بہاؤ میں 40 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتا ہے
عالمی ثالثی عدالت ہینگ میں واقع مستقل ثالثی عدالت نے جون 2025 میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا حالیہ فیصلے کا پاکستان نے خیر مقدم کیا ہے عدالت نے کہا کہ فیصلہ عدالت کے دائرہ اختیار کو متاثر نہیں کرتاعدالت نے مزید کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے ’معطل کرنے کی کوئی شق موجود نہیں اور نہ ہی کوئی فریق یک طرفہ طور پر تنازعات کو حل کیے جانے کے عمل کو روک سکتا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ گو کہ بھارت اس معاہدے کو ’معطل‘ قرار دے رہا ہے تاہم عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثالثی کی کارروائیوں کو بروقت، موثر اور منصفانہ طریقے سے آگے بڑھائےستمبر 1960 میں بھارت اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد سندھ طاس معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کا بنیادی مقصد وادی سندھ کے دریاؤں کے پانی کو دونوں ممالک کے درمیان منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنا تھا۔ تب سے اب تک دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 65 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ تاہم رواں برس اپریل میں بھارت نے پہلگام واقعہ کے تناظر میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔دسمبر 2025 میں پاکستانی حکام نے رپورٹ کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی روکنے اور ذخیرہ کرنے کی وجہ سے دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی جس سے زراعت اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہےعدالتی فیصلے سے پاکستانی بیانیہ کو تقویت ملی بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا اور ’پانی ہماری لائف لائن ہے۔ بھارت اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ بھارت کو مغربی دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن وہ پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے منصوبے نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اسے مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر کسی بھی قسم کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔ معاہدے کے تحت ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جو کسی متنازع منصوبے کے حل کے لیے بھی کام کرتا ہے تاہم اگر کمیشن مسئلے کا حل نہیں نکال سکتا تو معاہدے کے مطابق حکومتیں اسے حل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس کے علاوہ، معاہدے میں ماہرین کی مدد لینے یا تنازعات کا حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی عدالت میں جانے کا طریقہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی بنیادی ذمہ داریوں میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کا اجلاس ہونا، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنا اور دونوں اطراف دریاؤں پر جاری پراجیکٹس پر دوسرے ممالک کی معائنہ ٹیموں کے دورے کرنا شامل ہے۔ دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنرز عموماً مئی کے مہینے میں یہ اجلاس کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس کی سالانہ رپورٹ یکم جون کو پیش کی جاتی ہے
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو بطور ’ہتھیار‘ استعمال کرنے کی بات کی گئی ہو۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران جتنی بار پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوا ہے اتنا ہی سندھ طاس معاہدہ توڑنے کی باتیں بھی اٹھی ہیں سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھارت میں گذشتہ دو عشرے میں بالخصوص بی جے پی کے دورِ اقتدار میں حکومت کی پوزیشن سخت ہوتی گئی سنہ 2001 اور 2002 میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے توبھارت کے آبی وسائل کے وزیر بجوئے چکرورتی نے کہا تھا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیےبھارت کئی اقدامات کر سکتا ہے اور اگر ہم نے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان خشک سالی کی زد میں آ جائے گا اور وہاں کے لوگوں کو پانی کے ایک ایک قطرے کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی۔ 2016 میں اڑی میں ایک فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کےبعد سندھ طاس معاہدے کی جائزہ میٹنگ ہوئی تھی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد مرکزی وزیر نتن گڈکری نے بیان دیا تھا کہ بھارت نے پاکستان جانے والے پانی کی تقسیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگست 2019 میں آبی وسائل کے وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کیے بغیر پاکستان جانے والے پانی کو روکنے کے لیے کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اس کے بعد اگست 2024یں بھارت نے پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی شق 13(3) کے تحت معاہدے پر ’نظرثانی اور تبدیلیوں‘ کے لیے حکومتی سطح پر مذاکرات کے مطالبے کا جو نوٹس بھیجا تھا اس میں بھی نظرِثانی کے مطالبے کے حوالے سے سرحد پار دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا تھا یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انڈین حکومت کی جانب سے 1960 میں طے پانے والے معاہدے میں تبدیلیوں کا مطالبہ سامنے آیا ہو۔ دو برس قبل بھی بھارت نے اس سلسلے میں پاکستان کو ایک نوٹس بھیجا تھا لیکن اس میں صرف ’تبدیلیوں‘ پر بات چیت کا ذکر تھا تاہم اگست 2024 میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اس معاہدے پر ’نظرِ ثانی‘ کی بات بھی کی گئی بھارت اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔اس وقت بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہو گا۔ دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہےبھارت کو مغربی دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن وہ پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے منصوبے نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اسے مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر کسی بھی قسم کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔ معاہدے کے تحت ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیاتھا اس معاہدے میں مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب بھارت نے مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے بنانے شروع کیے۔ پاکستان کو یہ تشویش تھی کہ ان منصوبوں سے اس کی طرف جانے والے پانی کے بہاؤ میں کمی آ جائے گی۔ دونوں ملکوں کے ماہرین نے سلال ڈیم کا تنازع 1978 میں حل کیا۔ پھر بگلیہار ڈیم کا معاملہ سامنے آیا اسے عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانبدار ثالث کی مدد سے 2007 میں حل کیا گیا۔ کشن گنگا پراجیکٹ بھی ایک متنازع پراجیکٹ تھا یہ معاملہ عالمی ثالثی عدالت تک پہنچا 2013 میں وہاں سے فیصلہ ہوا۔ ان تنازعات کے حل میں سندھ کمیشن کے اجلاسوں نے اہم کردار ادا کیا ان منصوبوں کے بارے میں پاکستان کی کچھ تشویش حق بجانب ہیں بھارت سندھ کے پانی کے بہاؤ کو کم کر کے پاکستان میں خشک سالی لانے کی کوشش کر رہا ہے
کئی لوگ جو گہرائی سے نہیں جانتے ان کو لگتا ہے کہ ان دریاؤں کا 80 فیصد پانی پاکستان کو جاتا ہے اس لیے یہ معاہدہ بھارت کے حق میں نہیں اور اسے منسوخ کر دینا چا ہیے یا نیا معاہدہ کیا جانا چاہیے۔
یہ معاہدہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا, ندیوں کا بٹوارہ، ان کی ہائیڈرولوجی، ان کا بہاؤ، وہ کس طرف جا رہی ہیں، ان میں کتنا پانی ہے, ان سب کو مد نظر رکھ کر یہ معاہدہ طے پایا تھا
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی کے حوالے سے بھیجے گئے نوٹس پر پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور جہاں وہ خود اس پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے وہیں بھارت سے بھی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ اس پر کاربند رہے گا
سندھ طاس معاہدہ ایک اہم معاہدہ ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے کام آتا رہا ہے۔
یہ معاہدہ پانی کی تقسیم سے متعلق دوطرفہ معاہدوں کے لیے ایک بہترین معیار ہے اور پاکستان اس پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی اس معاہدے پر کاربند رہے گا
بھارت نے پاکستان کو 20 ستمبر 2024کو سندھ طاس معاہدے کی شق 13(3) کے تحت ایک باضابطہ نوٹس بھیجا جس میں معاہدے پر ’نظرثانی اور تبدیلیوں‘ کے لیے حکومتی سطح پر مذاکرات کی بات کی گئی
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے 2برس قبل بھی پاکستان کو ایک نوٹس بھیجا تھا لیکن اس میں صرف ’تبدیلیوں‘ پر بات چیت کا ذکر تھا
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ‘غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ‘ بھارتی طرز عمل سے پاکستان کے اندر انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے,
پاکستان نے دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی پر بھارت سے وضاحت بھی طلب اوربھارت پر سندھ طاس معاہدے کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے
اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے “ہم نے اس سال اپریل میں بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا مشاہدہ کیا تھا لیکن اب جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ بھارت کی طرف سے خلاف ورزیاں ہیں، جو سندھ طاس معاہدے کے دل پر حملہ کرتی ہیں اور یہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کے تقدس کو بھی پامال کرتا ہے۔”ہم نے دو بار دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی، اور اچانک تبدیلیاں دیکھی ہیں۔”پانی کے بہاؤ میں یہ تغیرات پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ یہ بھارت کی طرف سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بھارت نے یہ پانی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے چھوڑا اور نہ ہی معاہدے کے تحت پاکستان کے ساتھ کسی ڈیٹا یا معلومات کے اشتراک کیا ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ کارروائی “واضح طور پر پانی کو ہتھیار بنانے کی مثال پیش کرتی ہے، جس کی طرف پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے۔”
” بھارت کی پانی کی ہیرا پھیری سے ہمارے شہریوں کی زندگی اور معاش کے ساتھ ساتھ خوراک اور معاشی تحفظ کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان توقع کرتا ہے کہ بھارت انڈس واٹر کمشنر کے سوالات کا جواب دے گا اور دریا کے بہاؤ میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ ہیرا پھیری سے باز رہے گا اور سندھ طاس معاہدے کی دفعات کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری روح کے ساتھ ادا کرے گا۔ “بھارت معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ، پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس میں ہیرا پھیری کرنے کی بھارتی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور 240 ملین لوگوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ رہی ہے۔بھارت نے معاہدے کے تحت درکار معلومات، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور مشترکہ نگرانی کا اشتراک روک دیا تھا، جس نے پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی سے دوچار کیااس طرح کے غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ بھارتی طرز عمل سے پاکستان میں انسانی بحران کو جنم دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے جاری پانی کی ہیرا پھیری بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت کو معاہدے اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو “ہم ایک بہت خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔”اس سے قبل وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے انڈس واٹر ٹریٹی میں بیان کردہ طریقہ کار کے تحت وضاحت طلب کرنے کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔ بھارت کی طرف سے دریا کے بہاؤ میں کوئی بھی ہیرا پھیری سے، خاص طور پر ہمارے زرعی دور کے نازک وقت میں، ہمارے شہریوں کی زندگی اور معاش کے ساتھ ساتھ خوراک اور اقتصادی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہےیاد رکھیں کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دی ہے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعدبھارت نےپاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے.ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق ماہرین کی کمیٹی نے منعقدہ اجلاس کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ دریائے چناب کے طاس کا پانی 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کیا گیا اور اس منصوبے کے ابتدائی پیرامیٹرز بھی اسی معاہدے کی روشنی میں طے کیے گئے تھے تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔پینل نے واضح طور پر لکھا کہ 23 اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہے. جس کے بعد اب انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ جب تک سندھ طاس معاہدہ فعال تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے جبکہ بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا تھا
بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دی .جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، یہ منصوبہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں موجود جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا
ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے
دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا. 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور سکیم کے تحت چل رہا ہے.نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا
پاکستان نے دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر وضاحت کے لیے بھارت کو خط لکھ دیا گیا ہے۔دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے دریائے چناب کے بہاؤ میں ’اچانک تبدیلی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ ایک ہفتے سے خبروں میں ہےمیڈیانے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب میں پانی چھوڑا ہے۔پاکستان ان تبدیلیوں کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، یہ بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے سندھ طاس معاہدے میں درج طریقۂ کار کے مطابق بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے بھارت کی جانب سے دریا کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر، براہِ راست ہمارے شہریوں کی زندگی، روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہےانہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریا کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ مداخلت سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو لفظی اور عملی طور پر پورا کرے سندھ طاس معاہدہ ایک ’پابند بین الاقوامی معاہدہ‘ ہے جو ’خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ذریعہ‘ رہا ہے۔ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی معاہدات کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے خطرہ ہے اور اس سے علاقائی امن، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے ضوابط کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہےبین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے ایک دوطرفہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ اصولوں اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم پاکستان عوام کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔
یاد رہے کہ سال 2025اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام واقعےکے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھا ہے بھارت نے بغیر ثبوت کے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا