اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی۔ بلاشبہ اِس دعوت سے پاکستان کا عالمی وقار اور کردار واضح دنیا کے سامنے آیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ میں امن اور انتظامی امور سے متعلق بورڈ آف پیس تشکیل دے دیا گیا ہے، جس کے ارکان کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بورڈ میں بین الاقوامی سفارتی، سیاسی اور انتظامی تجربہ رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ چارٹر کے تحت جو ممالک غزہ امن بورڈ میں 3 سال سے زائد کی رُکنیت چاہتے ہیں انہیں 1 ارب ڈالر سے زائد فنڈ دینے ہوں گےخبر ایجنسی کے مطابق
ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔ غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے1 ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے حکومتی امور کو حماس کی جگہ ایک امن بورڈ سے چلایا جائے گا جس میں عالمی رہنماؤں کو شامل کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پیس آف بورڈ کے ارکان کا اعلان کردیا جس سے غزہ امن معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا۔
غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین کے طور پر خود کو مقرر کرکے انتقالی حکمرانی اور امن منصوبے کو آگے بڑھانے کا ذمہ لیا ہے۔1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیراعظم رہنے والے سر ٹونی بیئر غزہ بورڈ آف پیش کے بین الاقوامی رکن ہوں گے۔امریکی صدر نے غزہ بورڈ آف پیس میں اپنے معتمد خاص اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی بطور رکن شامل کیا ہے۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ جو ٹرمپ انتظامیہ کے خارجہ پالیسی میں اہم کردار رکھتے ہیں اور غزہ کے انتظامی مراحل میں کلیدی نمائندے ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو بھی غزہ پیس آف بورڈ میں شامل کرلیا جو خصوصی ایلچی کی حیثیت رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو غزہ پیس آف بورڈ کے رکن ہوں گے۔عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کو بھی عالمی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے لیے غزہ بورڈ آف پیس میں بطور نمائندہ شامل کیا گیا ہے۔سرمایہ کاری کے ماہر اور اپالو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا جو اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے امور دیکھیں گے۔غزہ بورڈ آف پیس میں سیکیورٹی مشیر کے طور پر رابرٹ گبریل کو شامل کیا گیا ہے جو امریکی نائب قومی سلامتی مشیر ہیں اور غزہ میں سیکیورٹی اور حکمتِ عملی کے معاملات پر کام کریں گے۔بلغاریہ کے سابق سفارت کار اور اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی نمائندے نکولے ملادی نوف غزہ بورڈ آف پیس میں بورڈ اور انٹرنیشنل کمیٹی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گے۔فلسطینی رہنما اور معروف ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر علی شاعتھ کو نیشنل کمیٹی فار دا ایڈمنسٹریشن آف غز کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔یہ کمیٹی غزہ میں روزمرہ انتظامات، بنیادی خدمات کی بحالی، اور اداروں کی تعمیر نو کے لیے کام کرے گی۔اس کے علاوہ ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی قائم کیا گیا جس میں بین الاقوامی مسلم اور اسرائیلی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔جن میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان، قطری سفارت کار علی الثواڈی، مصر کے انٹیلی جنس چیف جنرل حسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں۔ان کے علاوہ اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکیر گابے اور نیدرلینڈ کے سابق نائب وزیراعظم سیگرڈ کاگ بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔یہ کمیٹی غزہ میں حکمرانی اور خدمات کی فراہمی میں بورڈ آف پیس کی مدد اور تعاون کرے گا۔گزشتہ سال کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت بورڈ کے سربرا ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ میڈیا کے مطابق بورڈ کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال میں امن، تعمیر نو اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق سفارشات مرتب کرنا ہے۔ ٹرمپ منصوبے کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ خطے میں استحکام لانے اور مستقبل کے سیاسی حل کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔تاہم عالمی سطح پر اس اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے یکطرفہ اقدام قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی منصوبے میں فلسطینی عوام کی رائے اور شمولیت ناگزیر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو غزہ کے حوالے سے بنائے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے، یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غزہ میں قیام امن کے لیے پاکستان کی شمولیت جاری رہے گی، پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ممکن بنایا جا سکےترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی، انسانی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون جاری رکھے گادنیا نے فلسطین پر پاکستان کے مستقل اور اصولی مؤقف کو تسلیم کر لیا۔
ذرائع کے مطابق غزہ فلسطین میں جنگ کے خاتمے، انتظامی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے GPP (Gaza Peace Plan) اور اس کے تحت Peace Board / Board of Peace جیسے مجوزہ انتظامی و سفارتی اقدامات زیرِ بحث ہیں۔ اسی تسلسل میں صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں تاکہ وہ اس مجوزہ Peace Board کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد داخلی استحکام، امدادی کارروائیوں، بنیادی سہولیات کی بحالی، اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت میں مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔ وزیراعظم پاکستان کو بھی اس مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ یہ خبر نہ صرف انتہائی مثبت ہے بلکہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت بھی ہے۔ وزیراعظمِ پاکستان کو ایسے عالمی پلیٹ فارم کے لیے دعوت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کامیابی تسلسل کے ساتھ کی گئی ریاستی سفارت کاری، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات کے مطابق مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سول ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط کاوشیں بھی شامل ہیں۔ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے، پاکستان کی شرکت یا مثبت ردِعمل کی بنیاد کسی کیمپ کی سیاست نہیں، بلکہ فلسطینی عوام خصوصاً غزہ کے بے گناہ اور نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی تکالیف کم کرنے اور ایک منصفانہ، پائیدار حل کی عملی حمایت ہےپاکستان علماء کونسل نے امریکی صدر کے ساتھ پاکستان کو فلسطین کے مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت کو عظیم کامیابی قرار دیا ہے ۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی تعمیر نو کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو مجوزہ بورڈ کی ممبر شپ کیلئے دعوت پاکستان کی عظیم سفارتی کامیابی اور اہل فلسطین کیلئے پاکستان کی ہر سطح پر کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے جس طرح امریکی صدر کے ساتھ اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کی ترجمانی کی ہے وه قابل فخر ہے۔ حافظ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کے امت مسلمہ کے ساتھ اہل فلسطین کیلئے کردار کو آگے بڑھائیں۔ بلاشبہ اِس دعوت سے پاکستان کا عالمی وقار اور کردار واضح دنیا کے سامنے آیا ہے۔غزہ بھر میں صیہونی افواج کے حملے جاری ہیں، 3 ماہ قبل نافذ ہونے والی ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔یونیسیف کے ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق، اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید کر دیئےہیں جنگ بندی کے بعد اب تک 464 فلسطینی شہادتیں رپورٹ ہوئی ہیں، اکتوبر 2023 سے غزہ میں شہدا کی تعداد 71 ہزار 353 ہوگئی۔ شدید سردی کے باعث ایک اور نومولود جان نے دم توڑ دیا، رواں موسم میں 7 بچوں سمیت 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک لاکھ 71 ہزار سے 548 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کیلئے فلسطینی کمیٹی نے قاہرہ میں کام شروع کر دیا، اسرائیل کی جانب سے امداد پر پابندیوں سے حالات مزید بدتر ہوگئے، غزہ میں انسانی بحران شدید ہو گیا، تنظیموں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔گزشتہ برس نومبر میں غزہ کی مقامی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلسل فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اگرچہ یونیسیف اکتوبر کے بعد سے غزہ میں امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم زمینی سطح پر شراکت داروں کی ضرورت ہے، اور موجودہ امداد اب بھی ضرورت پوری نہیں کر پا رہی۔ یکم جنوری کو اسرائیل نے 37 بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا، جسے اقوامِ متحدہ نے اس وقت ’انتہائی اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا تھا۔قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیاں پورے معاہدے کو سنگین خطرے سے دوچار کر رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو انسانی بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔قطری وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے سینکڑوں مرتبہ خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی یہ خلاف ورزیاں ثالثی کرنے والے ممالک کو مشکل صورتحال میں ڈال رہی ہیں اور نازک جنگ بندی کو کمزور کررہی ہیں۔شیخ محمد بن عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ تک انسانی امداد کی ترسیل بغیر کسی شرط کے یقینی بنائی جانی چاہیے اور امریکا اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ مزید امدادی سامان غزہ میں داخل ہوسکے۔7ویں امریکا قطر اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران غزہ جنگ بندی پر عملدرآمد، مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس اور غزہ کے شدید انسانی بحران پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس فورس میں انڈونیشیا اور ترکی کے دستوں کی شمولیت کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اسرائیل ترکی کے کردار کی مخالفت کر رہا ہے۔ادھر غزہ میں سردیوں کے شدید طوفانوں نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ لاکھوں فلسطینی عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ امدادی سامان کی ترسیل شدید طور پر محدود ہے۔دوسری جانب حماس کے غزہ میں سربراہ خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی خلاف ورزیاں معاہدے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور عالمی برادری کو اسرائیل کو جوابدہ بنانا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے رائد سعد کی ہلاکت کا دفاع کرتے ہوئے حماس پر دوبارہ مسلح ہونے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں حماس کے غیر مسلح ہونے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے شامل تھے، جن میں سینکڑوں فلسطینیوں کی لاشوں کی واپسی بھی ہوئی، جن پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالتی اتھارٹی عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے قرار دیا ہے کہ اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ غزہ کی شہری آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرے اور اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا)سمیت دیگر اقوام متحدہ کے اداروں کی انسانی امداد کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرے۔ جج یو جی ایواسوا کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے اس مؤقف کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا کہ بڑی تعداد میں یو این آر ڈبلیو اے کے ملازمین حماس سے منسلک ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ الزامات ناکافی ثبوتوں پر مبنی ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ اسرائیل کو بطور قابض طاقت غزہ میں قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں، اور اگر مقامی وسائل ناکافی ہوں تو وہ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا پابند ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کے داخلی قوانین مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر لاگو نہیں ہوتے اور فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر دیا گیا جس میں اسرائیل کے بطور قابض طاقت انسانی رسائی میں رکاوٹ سے متعلق قانونی ذمہ داریوں پر مشورتی رائے مانگی گئی تھی۔ اگرچہ یہ رائے قانونی طور پر پابند نہیں، تاہم اس کی اخلاقی اور سفارتی حیثیت اہم مانی جاتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں امن کی کرنیں نمودار ہو رہی ہیں۔ ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ فلسطینی عوام کے لیے ایک طویل اذیت کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب ان کی توجہ علاقے کی تعمیرِ نو پر مرکوز ہونی چاہیے۔29 ستمبر 2025 کو، ریاست ہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں غزہ کی جاری جنگ اور مشرق وسطی کے وسیع تر بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس میں 20 مخصوص نکات شامل ہیں جن کا مقصد جنگ بندی کا حصول، اسرائیلی یرغمال کی واپسی، حماس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور غزہ کی پٹی میں عبوری حکمرانی کا ڈھانچہ قائم کرنا ہے ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ حماس کی منظوری پر منحصر ہے2007 میں حماس کے غزہ پر قبضہ کرنے کے بعد، اسرائیل کے ساتھ بار بار جھڑپیں بڑے تنازعات میں بدل گئیں، جس کا اختتام 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ہوا، جس نے بڑے پیمانے پر اسرائیلی فوجی مہم کو جنم دیا۔ 2023 کے آخر اور 2025 کے اوائل میں جنگ بندی کی کوششیں منہدم ہو گئیں اور مارچ 2025 میں اسرائیلی اچانک حملے کے ساتھ لڑائی دوبارہ شروع ہوئی۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی واپسی، قیدیوں کے تبادلے، غزہ کی تخفیف اسلحہ، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، بین الاقوامی نگرانی میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ذریعہ عبوری حکمرانی، بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کی طرف مشروط راستے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کو فرانس,جرمنی,روس,اسپین,متحدہ عرب امارات,مصر,ترکی,قطر,اردن,انڈونیشیا,پاکستان اور برطانیہ سمیت دنیا بھر کے بہت سے ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم حماس نے ابھی تک ٹرمپ کے منصوبے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے قبل، حماس کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا کہ حماس نے ٹرمپ کے منصوبے میں ظاہر ہونے والی تخفیف اسلحہ کی شرائط کو مسترد کر دیا
اسی تناظر میں فلسطینی تجزیہ کار علاء الریماوی نے مرکزاطلاعات فلسطین کے لیے ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اعلان کردہ کونسل دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کے نتائج کا عملی ترجمہ ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک امریکی اجارہ داری کونسل ہے جو قابض اسرائیل کی سمتوں کے تابع ہے، فلسطینیوں کو فیصلہ سازی کے مرکز سے باہر رکھتی ہے اور ایک ایسے پیچیدہ مرحلے کا دروازہ کھولتی ہے جہاں عارضی سکون کے امکانات اندرونی بکھراؤ کے خطرات سے آ ملتے ہیں۔الریماوی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے امن کونسل کے قیام کا اعلان تاریخی امریکی جانبداری سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے بقول کونسل کی ساخت اور ترکیب واضح طور پر قابض اسرائیل کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے اراکین کی نفسیاتی اور سیاسی تشکیل قابض اسرائیل کے بیانیے سے غیر معمولی ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے۔ بعض شخصیات انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھتی ہیں جو صہیونی دائیں بازو کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہیں، اس طرح کونسل کسی بھی قسم کی غیرجانبداری یا توازن سے محروم ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق ایسی ساخت کونسل کو موجودہ صورت حال کے انتظام کا آلہ بنا دیتی ہے، نہ کہ تنازعے کی جڑ پر ضرب لگانے یا فلسطینی حقوق کی ضمانت دینے کا کوئی فریم ورک۔الریماوی نے نشاندہی کی کہ کونسل کے اراکین کے معروف سیاسی مؤقف بنیادی نکات پر قابض اسرائیل کے وژن سے جا ملتے ہیں۔ اس ہم آہنگی میں سکیورٹی کی تعریف، ترجیحات کا تعین اور پیش کردہ حلوں کی نوعیت سب شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کونسل فلسطینی مسئلے کو ایک سکیورٹی اور انسانی فائل کے طور پر دیکھتی ہے، نہ کہ قومی آزادی کی جدوجہد کے طور پر، جو قابض اسرائیل کے اس نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا ہے جس کا مقصد تنازعے کو اس کے سیاسی مفہوم سے خالی کرنا ہے۔الریماوی کے مطابق کونسل کے اندر عرب اور اسلامی موجودگی حقیقی اثر و رسوخ سے محروم ہے۔ مصر، امارات اور ترکیہ جیسے ممالک کی شمولیت محض انتظامی دائرہ کار اور ذیلی کمیٹیوں تک محدود ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ ممالک کونسل کے مرکزی ڈھانچے میں حتمی سیاسی فیصلوں کے شریک نہیں، جس کے باعث عرب کردار سیاسی اثر کے بجائے ایک عملی اور وظیفہ نما حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔الریماوی نے کہا کہ آنے والے مرحلے میں کونسل کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں پر سکیورٹی اور امدادی رنگ غالب ہے، جو سودے بازی کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ان کے مطابق حرکت کا طریقہ ایک واضح مساوات پر قائم ہے کہ سکیورٹی میں پیش رفت کے بدلے امداد میں پیش رفت، جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کی جائز انسانی ضروریات کو ایسی سیاسی اور سکیورٹی شرائط سے جوڑ دیا جاتا ہے جو تنازع کے جوہر کو متاثر کرتی ہیں۔الریماوی نے زور دیا کہ کونسل کے قیام کا سب سے خطرناک پہلو اس کے بنیادی ڈھانچے میں فلسطینی نمائندگی کی عدم موجودگی ہے۔ ان کے مطابق اس کمی کے باعث غزہ میں کوئی بھی سرکاری کمیٹی محض محدود اختیارات کی حامل ایک انتظامی اکائی بن کر رہ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی کمیٹی کے پاس وہ سیاسی اور محاذی صلاحیت نہیں ہوتی جو فلسطینی مفادات کے تحفظ یا فیصلہ سازی کے مرکز پر اثر انداز ہونے کے لیے ضروری ہے، یوں آئندہ کسی بھی انتظام میں فلسطینی مؤقف کمزور پڑ جاتا ہے۔الریماوی کے مطابق یہ تشکیل امریکی دلچسپی کی عکاس ہے جو اپنی سیاسی سوچ کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آنے والے مرحلے میں امریکی منصوبے کی بعض جھلکیوں پر عمل درآمد تیز ہو گا، جس میں کونسل کی فراہم کردہ ادارہ جاتی چھتری سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ کونسل کے اعلان اور غزہ میں سرکاری کمیٹی کے قیام کے بعد قریبی مدت میں وسیع پیمانے پر جنگ کی واپسی کا امکان انتہائی کم ہو جائے گا۔ان کے مطابق فلسطینیوں کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا دار و مدار غزہ کے اندر ردعمل کی نوعیت پر ہو گا، جس میں غالب امکان ہے کہ سماجی اور معاشی پہلو نمایاں رہیں گے اور سیاسی مزاحمت میں بتدریج کمی آئے گی۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ آنے والا مرحلہ اسلحہ سے متعلق مرکزی ہدف کی جانب سکیورٹی تیزی دکھائے گا جبکہ جامع تعمیر نو کے معاملات میں واضح سست روی رہے گی۔مالی رکاوٹیں غزہ پٹی کی تعمیر نو کی کوششوں کو کمزور کرنے میں ایک بنیادی عامل ثابت ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ واضح امریکی جانبداری اور کونسل کی سیاسی ساخت کے قابض اسرائیلی وژن سے براہ راست ٹکراؤ کے باوجود آئندہ مرحلے میں غزہ کے عوام کے لیے کچھ محدود انسانی سہولتیں ممکن ہیں۔ وسیع جنگ کی واپسی کا امکان گھٹ رہا ہے اور موجودہ حالات میں اجتماعی بے دخلی کا منظرنامہ ناکام دکھائی دیتا ہے۔ الریماوی نے خبردار کیا کہ آنے والا دور سماجی جدوجہد کے کردار کو تو بڑھا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی میں اندرونی ساختی تصادم کے سنگین خدشات بھی موجود ہیں، خاص طور پر ایسی مسلح ملیشیاؤں کے ابھرنے کے باعث جن کے قابض اسرائیل سے براہ راست یا بالواسطہ روابط ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلہ فلسطینی تحریک کی روح کو گہرائی سے سمجھنے اور ایک متوازن حکمت عملی اپنانے کا تقاضا کرتا ہے، جو فوری انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ فلسطینی شناخت اور قومی منصوبے کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔













