اسلام آباد (ٹی این ایس) غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے پاکستان کی تزویراتی خودمختاری مضبوط

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔۔غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے پاکستان کی تزویراتی خودمختاری مزیدمضبوط ہوگئی ہے جبکہ ترکیہ اور متعدد ممالک نےبھی اس اقدام پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ اقدام غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے ذریعے مستقل جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافہ ہوگا اور غزہ کی دوبارہ تعمیر ممکن ہو سکے گی پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی طرف بھی مثبت قدم ثابت ہوں گی، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنیں گی، جو 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اور اس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔ پاکستان نے واضح کیاکہ وہ بورڈ آف پیس کے رکن کے طور پر ان اہداف کے حصول اور فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے دکھوں کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔’بورڈ آف پیس‘ کے اہم مقاصد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت غزہ کے مسئلے کا مستقل حل، مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو، فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن کے حصول کو یقینی بنانا شامل ہے۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں جاری قتل عام روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اس کی قریباً 1200 مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور موجودہ بین الاقوامی تقسیم اور دھڑے بندیوں کے تناظر میں ایسے فورمز میں شامل ہونا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ضروری قدم بن چکا ہے۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقتور مراکز جیسے امریکا، چین اور روس کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی دھڑے بندیوں میں پاکستان کا کردار منفرد اور اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ذریعے اپنے غیر جانبدارانہ مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط قائم رکھے گا، جس سے اس کی تزویراتی خودمختاری مضبوط ہوگی۔
پاکستان نے ہمیشہ اصولی اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی ہے، جس میں چین، ہندوستان، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔
پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے، فلسطین کے تنازعات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے، القدس شریف کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے تحفظ کے اصولی مؤقف کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئے فورمز کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی عالمی اہمیت کے لیے خطرناک ہے، جبکہ پاکستان نے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ متحرک کردار عالمی طاقت کے محور میں روزانہ تبدیلی کے تناظر میں قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔حکومت پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت کے حوالے سے واضح اور غیر مبہم موقف اپنایا ہے۔انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے فیصلے میں پاکستان کے قومی مفاد، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور پاکستان و فلسطینی عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا غیر منطقی ہے اور بعض عناصر کی گمراہ کن کوشش کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ 18 جنوری 2026 کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی تھی ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ پاکستان کو غزہ کے حوالے سے بنائے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ غزہ سے متعلق امن معاہدہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خود کو اس بورڈ کا چیئرمین مقرر کرتے ہوئے انتقالی حکمرانی اور امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم سر ٹونی بلیئر کو بین الاقوامی رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے، جو 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے قریبی معتمد اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی بورڈ کا رکن مقرر کیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور غزہ کے انتظامی مراحل میں اہم نمائندہ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کیا ہے، جو خصوصی ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے لیے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو بھی بورڈ کی رکنیت دی گئی ہے۔ عالمی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے لیے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کو غزہ بورڈ آف پیس میں نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے ماہر اور اپالو گلوبل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک روون کو اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے معاملات کی نگرانی سونپی گئی ہے۔ سیکیورٹی امور کے لیے امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گبریل کو بورڈ کا سیکیورٹی مشیر مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں سیکیورٹی اور حکمتِ عملی سے متعلق امور پر کام کریں گے۔ بلغاریہ کے سابق سفارت کار اور اقوامِ متحدہ میں مشرقِ وسطیٰ کے سابق خصوصی نمائندے نکولے ملادینوف کو بورڈ اور انٹرنیشنل کمیٹی کے درمیان رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ فلسطینی رہنما اور معروف ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر علی شعتھ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں روزمرہ انتظامات، بنیادی سہولیات کی بحالی اور ادارہ جاتی تعمیر نو پر کام کرے گی۔ مزید برآں ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی مسلم اور اسرائیلی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان، قطری سفارت کار علی الثوادی، مصر کے انٹیلی جنس چیف جنرل حسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ یہ اعلان یو اے ای کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید النہیان نے کیا۔شیخ عبد اللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کے عزم پر اعتماد کا اعادہ کیا۔شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس کے مشن میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے ذریعے تمام فریقین کے لیے تعاون، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جائے گا۔ دوسری جانب سعودی کابینہ نے غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کی انتظامیہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بورڈ آف پیس کی حمایت کی ہے۔ کابینہ کا اجلاس کو ریاض میں منعقد ہوا جس کی صدارت سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔اجلاس میں وزرا نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا اور فلسطینی اتھارٹی کے علاقے میں واپس آنے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا، تاکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں، عرب امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جاری جنگ بندی سے متعلق تیار کردہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خصوصی ایلچی نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ منصوبہ اب محض جنگ بندی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا اگلا مرحلہ ڈی ملٹرائزیشن، عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام اور تعمیرِ نو کے عمل پر مشتمل ہے۔ دوسرے مرحلے میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی، جس کے تحت علاقے کو مکمل طور پر غیر فوجی بنایا جائے گا اور تعمیرِ نو کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے واضح کیاکہ اس مرحلے کا مقصد غزہ میں غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنا ہے۔ امریکی ایلچی نے کہا کہ امریکا کو توقع ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی، جن میں آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے تحت ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جسے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران غیر معمولی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا جبکہ 28 میں سے 27 ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس لائی گئیں۔
انہوں نے اس پیشرفت میں مصر، ترکیہ اور قطر کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ان کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ پہلے بھی کئی ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اس کے اہم مقاصد درجہ ذیل ہیں۔
1. اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرادادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا مستقل حل –
2. مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو-
3. غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطین کے مسلمانوں کی حق خودارادیت –
4. خطے میں پائیدار امن کی بحالی –
(بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت….)
1. یہ قدم اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے –
2. پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے-
3. دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں(Blocs) کی وجہ سے کثیر اُلجہتی Platforms میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے –
4. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقت ور Power Centres جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے – اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلف Blocs میں بٹی دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے –
(پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت)
1. پاکستان Bloc Politics کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی stakeholders کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خودمختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے –
2. پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ Foreign Policy کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے –
3. پاکستان نے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے چین ، ہندوستان ، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا –
4. ہندوستان کے معاملے میں پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک با اصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی –
5. پاکستان نے غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنایا – اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل- بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام ، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام ، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے –
6. اِسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا “جزو لا ینفک” رہا ہے –
7. دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے Forums کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا کے لیے خطرناک ہے – ی
8. اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لئے ایسے Forums سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے –
9. دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے – اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے –
10. پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لئے متحرک رہا ہے –
11. پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں – ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں ، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے –

(انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) اور بورڈ آف پیس کا تقابلی جائزہ )
1. حکومت پاکستان نے ISF میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مُبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے –
2. آئی ایس ایف (ISF) میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد ، اقوام متحدہ کے mandate ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا –
3. بورڈ آف پیس اور ISF میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے –
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو غزہ کے لیے قائم کیے گئے “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کی دعوت دی ہے، جس کا مقصد غزہ کی جنگ کے بعد انتظام، امن اور دوبارہ تعمیر کو یقینی بنانا ہے۔ یہ عالمی ادارہ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے جس میں غزہ کے تنازعے کے حل کے ساتھ ساتھ مستقبل میں دیگر عالمی تنازعات سے نمٹنے کا بھی عزم ہے۔
اس نئے “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے والی ممالک کو قیادت، رابطہ کاری اور مالی وسائل متحرک کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ مستقل نشست کے لیے چند ممالک سے 1 ارب ڈالر کی شراکت کی شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ متعدد ممالک کو بھی دعوت نامے بھیجے گئے ہیں، جن میں بھارت، پاکستان، ہنگری، ویت نام اور اردن شامل ہیں، جبکہ بعض نے مثبت ردعمل دیا ہے اور دیگر ممالک محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دو اہم ترین فریق حماس اور اسرائیل ہیں‘ لیکن اس مجوزہ بورڈ پر دونوں جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل نے اس عبوری بورڈ کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اپنی پالیسی کے خلاف قرار دیا ہے‘ جبکہ فلسطینی اسلامی جہاد نے اسے اسرائیل کے مفاد میں ایک یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دو اہم ترین فریق حماس اور اسرائیل ہیں‘ لیکن اس مجوزہ بورڈ پر دونوں جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں عالمی تناظر میں اس وقت دو اہم حکمت عملیاں زیرِ بحث ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ایسے کسی بھی عمل کا بائیکاٹ کر دیا جائے جو بڑی طاقتوں کے زیرِ اثر ہو‘ لیکن دوسری صورت یہ ہے کہ پاکستان اور ترکیہ جیسے مسلم ممالک اس پلیٹ فارم کا حصہ بن کر وہاں فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑیں۔ میدان سے باہر رہ کر تنقید کرنے سے کبھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے‘ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی فورمز پر موجود رہ کر اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو روکا جائے اور تعمیرِ نو کے نام پر فلسطینیوں کی آزادی کا سودا نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان اور ترکیہ کی اس بورڈ میں موجودگی اس بات کی ضمانت بن سکتی ہے کہ غزہ کی بحالی میں انسانی حقوق اور اسلامی اقدار کا خیال رکھا جائے گا اور متاثرین تک امداد کی منصفانہ رسائی ممکن ہو سکے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ غزہ اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے گزر رہا ہے جہاں شدید سردی‘ بارش اور خوراک کی قلت نے زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انسانیت سسک رہی ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ترجیح سیاست نہیں بلکہ انسانی ہمدردی ہونی چاہیے۔ متاثرین کو فوری طبی امداد‘ خوراک اور پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے اصل فریقین کو ایک ایسی مستقل جنگ بندی پر آمادہ کرنا ہو گا جس کی ضمانت عالمی طاقتیں دیں۔ جنگ بندی کے بغیر تعمیرِ نو کی کوئی بھی کوشش ریت کی دیوار ثابت ہو گی۔ عالمی برادری کو اب مصلحتوں سے نکل کر ایک ایسا حل نکالنا ہو گا جو مستقل بنیادوں پر فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر عزت اور وقار کے ساتھ رہنے کا حق دے۔ غزہ کا مسئلہ اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس جیسے اقدامات تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد انصاف پر ہو پاکستان کو اس بورڈ میں شامل ہو کر نہ صرف فلسطینیوں کا وکیل بننا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو یہ باور کرانا ہے کہ امن تبھی ممکن ہے جب قبضے کا خاتمہ ہو اور مظلوم کو اس کا حق ملے۔ حماس نے غزہ جنگ میں اپنی قیادت کھو دی‘ تنظیم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ حماس کی موجودہ قیادت بخوبی جانتی ہے کہ اس کی شروع کردہ جنگ کی وجہ سے غزہ کی پوری پٹی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنی زمینوں سے دربدر ہوئے۔ یہ بھی واضح ہے کہ حماس آسانی سے کسی بیرونی طاقت پر اعتماد کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہو گی۔ پیس بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ کی موجودگی حماس کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ مسلم ممالک کی قیادتوں پر اعتماد کر سکیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘میں نریندر مودی کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹرمپ کا پاور پروجیکشن ہے، وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وقت وہی دنیا کے سب سے طاقتور لیڈر ہیں۔غزہ کو اب مزید تجربہ گاہ بنانے کے بجائے ایک ٹھوس اور منصفانہ حل کی طرف بڑھنا ہو گا‘ ورنہ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے خون کی اس ہولی پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ پائیدار امن صرف اور صرف انصاف کی فراہمی اور فلسطینیوں کی مکمل آزادی میں پنہاں ہے۔پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔‘‏غزہ اور فلسطین پہ ہمارا وہی موقف ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کا موقف تھا۔ ‏ہم اسرائیل کے خلاف فلسطینوں کےساتھ مضبوط کھڑے ہیں۔ غزہ پہ حق صرف فلسطینی قوم کا ہے۔ نہ اسرائیل کو مانتے ہیں نہ فلسطین کی پاک و مقدس سرزمین پہ اسرائیل کے کسی حق کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ غزہ کے رہنے والے بےگناہ مسلمانوں کا ظالمانہ انخلاء کرے۔