
اسلام آباد (ٹی این ایس) سیاسی کارکن کی بے قدری اور جمہوریت کا زوال آج میں جس موضوع پر آپ سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ ہمارے ملک کے سیاسی اور جمہوری نظام کا ایک ایسا تلخ سچ ہے جس پر کم بات کی جاتی ہے، مگر یہی سچ ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ بھی ہے
پاکستان میں جتنی بھی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں چاہے وہ پاکستان مسلم لیگ ن ہو، پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا تحریکِ انصاف جماعتِ اسلامی ہو، ایم کیو ایم ہو یا دیگر مذہبی و سیاسی جماعتیں سب میں کم و بیش یہی رواج جڑ پکڑ چکا ہے سب کا دعویٰ جمہوریت، نظریے اور عوامی خدمت کا ہوتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان جماعتوں کی سینئر قیادت نے ہمیشہ نظریاتی کارکن کے بجائے اپنے اردگرد موجود چمچوں اور خوشامدیوں کو ترجیح دی ہے
اس کے برعکس قیادت کے اردگرد ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے چمچوں، خوشامدیوں اور خاص چیلوں کی دنیا۔ نہ نظریہ، نہ قربانی، نہ جدوجہد—بس زبان میں مٹھاس اور سر میں ہاں کی جنبش عہدے، ٹکٹ، مراعات اور پروٹوکول انہی کے حصے میں آتے ہیں، کیونکہ انہیں سوال نہیں آتے، صرف تالیاں آتی ہیں۔ یوں نظریاتی کارکن خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور چاپلوس سروں پر تاج رکھ لیتے ہیں یہی وہ ناانصافی ہے جو تحریکوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب کارکن کی عزت نفس روند دی جائے اور خوشامد کو قابلیت بنا دیا جائے تو پھر سیاست عبادت نہیں، تجارت بن جاتی ہے اور تاریخ گواہ ہےجو پارٹیاں اپنے سچے کارکن کو ذہنی اذیت دیتی ہیں، وہ آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے دب کر بکھر جایا کرتی ہیں
وہ کارکن جو لاٹھیاں کھاتا ہے، جیلیں بھگتتا ہے، دھوپ، بارش اور سردی میں پارٹی کا جھنڈا اٹھائے کھڑا رہتا ہے، وہی کارکن اقتدار کے وقت سب سے پہلے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو صرف “جی جی” اور “واہ واہ” کرنا جانتے ہیں، جو ہر غلط فیصلے پر بھی تالیاں بجاتے ہیں، وہی آگے بڑھا دیے جاتے ہیں
سیاسی کارکن کو صرف مقصد کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ الیکشن آئے تو کارکن یاد آ جاتا ہے، احتجاج ہو تو کارکن چاہیے، نعرے لگانے ہوں تو کارکن چاہیے — مگر جیسے ہی مقصد پورا ہوتا ہے، وہی کارکن بوجھ بن جاتا ہے۔ نہ اسے سنا جاتا ہے، نہ اس کی رائے کی کوئی وقعت رہتی ہے
یہی رویہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری نظام آج تک مکمل طور پر پروان نہیں چڑھ سکا۔ جب جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوگی، جب ورکر کو عزت نہیں ملے گی، تو ملک میں جمہوریت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟
یہ صرف کارکن کے ساتھ زیادتی نہیں، یہ قوم کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔ کیونکہ نظریاتی کارکن ہی کسی بھی سیاسی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جب اسی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ دیا جائے تو نظام کیسے رہے گا
آج ہمارا معاشرہ سیاسی اور جمہوری طور پر زوال پذیر ہے، اور اس زوال کی بڑی وجہ قیادت کی بے حسی، خود غرضی اور وقتی مفاد پرستی ہے۔ جب تک سیاسی قیادت اپنے کارکن کو عزت، مقام اور فیصلہ سازی میں حصہ نہیں دے گی، تب تک یہ نظام اسی طرح کمزور، کھوکھلا اور غیر مؤثر رہے گا۔جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیںُ نظریاتی اور محنتی کارکن جو اپنی قابلیت اور جدوجہد کے ذریعے آگے آنا چاہتا ہے، اس کے لیے جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ کبھی ٹکٹ نہیں دیا جاتا، کبھی اسے نظر انداز کیا جاتا ہے، اور کبھی اس پر الزام تراشی کرکے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خوشامدی اور چاپلوس افراد بغیر کسی جدوجہد کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچا دیے جاتے ہیں
یہ رویہ صرف کارکن کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ جمہوریت کی کھلی تذلیل ہے۔ جب جماعتوں کے اندر ہی آمریت ہوگی تو ملک میں جمہوریت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟ یہی اندرونی ڈکٹیٹرشپ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری زوال کی ایک بڑی وجہ ہے کہ کارکن جماعت بدلتا نہیں، دل ہی دل میں ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ مسئلہ ناموں کا نہیں، مزاج کا ہے وہ مزاج جو کارکن کو صرف استعمال کے قابل سمجھتا ہے، انسان نہیں جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، ہر جماعت میں نعرے بدلیں گے، جھنڈے بدلیں گے، مگر کارکن کا مقدر نہیں بدلے گا
اور جس دن ہم نے اپنے نظریاتی کارکن کو پہچان لیا، اسی دن پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا آغاز ہو جائے گا۔
تحریر صوفی عابد چشتی نظامی نیازی












