نیب ریفرنس ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ

 
0
341

اسلام آباد،نو مبر02(ٹی این ایس) : احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ،ْاحتساب عدالت نے گزشتہ سماعت میں پیش نہ ہونے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی ،ْوزیر خزانہ اور ان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش نہیں ہوئے ،ْخواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد عدالت میں پیش ہوئیں۔

نیب کی پراسیکیوشن ٹیم اور کیس کے 4 گواہان عدالت میں موجود تھے، کیس کے 28 گواہان میں سے اب تک صرف 3 پر ہی جرح ہوسکی ہے۔عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار اور خواجہ حارث لندن میں موجود ہیں۔اسحاق ڈار کی وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اور ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا۔وزیر خزانہ کے ضامن نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار لندن میں زیر علاج ہیں جس پر عدالت نے انہیں ہدایت دی کہ وہ یہ بیان تحریری طور پر جمع کرائیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے اسحاق ڈار کی درخواست اور میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی۔عدالت نے اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سناتے ہوئے نیب کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی استدعا مسترد کی اور اسحاق ڈار کی بھی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انجیو پلاسٹی ہونی ہے یااوپن ہارٹ سرجری، یہ ٹیسٹ کے بعد پتاچلے گا، کل تشخیصی ٹیسٹ کے بعد معلوم ہو گا کہ اسحاق ڈار کب واپس آ سکتے ہیں۔ عدالت نے اسحاق ڈار کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔گزشتہ سماعت پر اسحاق ڈارکے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے اسحاق ڈار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیاگیا تھا اور اس بنا پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی تھی تاہم عدالت نے استثنا دینے سے انکار کردیا تھا۔

خواجہ حارث نے بتایا تھا کہ اسحاق ڈار کی طبعیت ٹھیک نہیں اس لیے وہ لندن گئے ہیں ،ْخواجہ حارث نے ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تھا تاہم نیب ٹیم نے اس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اسحاق ڈار سیاسی سرگرمیوں کیلئے لندن میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں اسحاق ڈار کے خلاف ا?مدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس دائر کیا ہے۔