کراچی،نومبر 08 (ٹی این ایس): مہاجر قومی مومنٹ(پ) اور پاک سرزمین پارٹی نے آپس میں انضمام اور ایم کیو ایم کے نام کا استعمال کے بغیر نئی جماعت،منشور،نشان اور نئی اجتماعی روش کے ساتھ کراچی بالخصوص اور پورے سندھ میں بالعموم آئنندہ مثبت سیاست کرنے کا تاریخی اعلان کردیا ہے جس کے ساتھ ہی تشدد،بے امنی لاٹ مار اور ہزاروں زندگیوں کے چراغ گل کرنے والا 33 سالہ مہاجر کارڈ بالآخردفن ہوگیا ہے۔
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں فاروق ساتار اور مصطفیٰ کمال نے بدھ کی شام کراچی پریس کلب میں ایک پرہجوم کانفرنس کے دوران اس تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا۔نئی سیاسی پارٹی کے نام ،ایک منشور اور انتخابی نشان کااعلان آئندہ چند روز میں کیاجائے گا۔
ایم کیوایم رہنماء فاروق ستارنے کہاکہ ایم کیوایم اور پی ایس پی سے تعلق رکھنے والے کارکنان کوسلام پیش کرتاہوں۔آج ایک اہم واقعہ رونما وقوع پذیرہورہاہے۔یہ پریس کانفرنس ہم مشترکہ کررہے ہیں۔لیکن پریس کانفرنس کی میزبانی ایم کیوایم کررہی ہے۔پی ایس پی کے دوستوں کوخوش آمدید کہتاہوں۔وہ آج ایک مشترکہ مثبت کوشش سرانجام دے رہے ہیں۔پاکستان، صوبہ سندھ اور کراچی بہت سارے مسائل میں گھراہواہے۔
بالخصوص شہریوں اور قیادت نے ذمہ داری کومحسوس کیاکہ ہمیں صرف کراچی اور سندھ کے مسائل نہیں بلکہ پاکستان کے مسائل کوبھی حل کرناہے۔انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس کامقصد ووٹ بینک کی تقسیم کوروکنا،عدم تشدد کی پالیسی کوکامیاب کیاجائے، امن کودیرپاامن میں تبدیل کیاجائے،یہاں کسی بھی سیاسی اختلاف کوروک بدامنی کوروکاجائے۔اس مقصد کیلئے ایک عرصے سے ایم کیوایم اور پی ایس پی کیدرمیان مشاورتی عمل جاری تھا۔
ہم نے فیصلہ کیاکہ مل جل کرسندھ ،کراچی کے عوام کی خدمت کریں۔فاروق ستارنے کہاکہ ایک بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی الائنس قائم کریں۔مجھے امید ہے کہ ہمارے سیل دفاترزبھی واپس ملیں گے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کے مسائل حل کرناچاہتے ہیں۔مردم شماری میں ایک ایک فردکوگنوانا چاہتے ہیں۔عوام کاروزگارمیں حصہ چاہتے ہیں۔ہم ملکرکراچی کے عوا م کے مسائل حل کریں گے۔
پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں اور ہمیشہ کیلئے ایک منشور،ایک نشان اور ایک پارٹی کے نام سے پاکستان کے لوگوں کیلئے اپنی جدوجہدکاآغازکریں گے۔پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے فاروق ستاربھائی کی بات کی تائید کرتاہوں کہ ہم تیارہیں ،جب ہم ایک نشان ،ایک منشوراور ایک پارٹی نام سے جدوجہد کرنے کیلئے تیارہیں توساتھ ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم الطاف حسین کی تھی ،ہے اور رہے گی،پارٹی کانیانام ایم کیوایم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ لیکن حقیقت میں فاروق ستارشاید پی ایس پی کونہ مانے ۔اسی لیے ہم ملکرایک نیاپارٹی نام تشکیل دیں گے۔کراچی میں تین کروڑکے لگ بھگ عوام رہتے ہیں۔اگریہاں پرتصادم ہو،اختلافات پیداہوں۔نفرت کی چنگاری سے فاروق ستاریا مصطفی کمال نہیں مرے گا۔
بلکہ مہاجروں کے بچے مریں گے۔یہ کراچی میں پنجابیوں، سندھیوں یا مہاجروں کے حق میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ میں مہاجروں کی خاطرمہاجروں کے نام پرسیاست نہیں کرناچاہتا۔اگرمہاجروں کے نام پرسیاست کی تودوسروں میں نفرت پھیلے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم دونوں نے فیصلہ کیاکہ ہم ملکرایسی قیادت نکالناچاہتے ہیں جوپورے پاکستان کی نمائندگی کرے ۔ہم نے 3مارچ 2016ء کوآوازاس لیے بلند کی تھی کہ ہم سے کسی نے عہدے نہیں چھینے تھے؟ الطاف حسین تقریر کرکے سوجاتاتھا لیکن لاکھوں مہاجروں کی زندگیاں بربادہوجاتی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ میں ارباب اختیارسے کہتاہوں کہ کراچی کے بچوں کوبھی معاف کردیں۔انہوں نے کہاکہ میں ایم کیوایم کے رہنماؤں سے معذرت اور معافی چاہتاہوں جوپی ایس پی میں کارکنان کے خلاف کہاہو۔