جنگ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ، ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کر نے چاہئیں، وزیر اعظم کی بھارت کو پھر مذاکرات کی پیشکش

 
0
499

جواب دینا ہماری مجبوری بن گئی تھی، بھارت کو بتا دیا ہمارے پاس پوری صلاحیت موجود ہے، اگر بھارت پاکستان میں کچھ کرسکتا ہے تو ہم بھی بھارت میں جاکر کارروائی کرسکتے ہے

اسلام آباد فروری 27 (ٹی این ایس): وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کو پیش کش کرتے ہوئے کہاہے کہ جواب دینا ہماری مجبوری بن گئی تھی، بھارت کو بتا دیا ہمارے پاس پوری صلاحیت موجود ہے، اگر بھارت پاکستان میں کچھ کرسکتا ہے تو ہم بھی بھارت میں جاکر کارروائی کرسکتے ہیں،جتنی بھی دنیا میں جنگی ہوئیں سب جنگوں میں غلط اندازے لگے،بھارت کو چاہئے تھوڑی سی عقل اور حکمت استعمال کرے، جنگ شروع ہوئی تو میرے اور نہ نریندر مودی کے کنٹرول میں ہوگی، جنگ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے ،ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کر نے چاہئیں ۔بدھ کو سر کاری ریڈیو اور ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ ایک روز قبل سے جو صورتحال بنتی جارہی ہے چاہتا تھا اس پر آپ کواعتماد میں لوں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو ہر قسم کی تحقیقات کی پیشکش کی، پلوامہ حملے میں جو ہلاکتیں ہوئیں اس پر علم ہے کہ ان کے لواحقین کو تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ ہمارے ہاں 10 سال میں 70 ہزار سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ کتنے ہسپتالوں میں گیا ہوں جدھر لوگوں کو دیکھا ہے ان میں کسی کی ٹانگیں نہیں ، کوئی زخمی ہیں ، پتہ ہے ان کے گھر والوں پر گزر رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے سیدھی پیشکش کی کہ پاکستان کسی بھی طرح کی تحقیقات سے تعاون کیلئے تیار ہے ہم نے یہ اس لیے کہاکیوں کہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ کوئی ہماری زمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرے، یہاں کوئی باہر سے ہماری زمین استعمال کرے اور اس پر کوئی تنازع تھا ہی نہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں تحقیقات میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، ہم تیار تھے لیکن مجھے خدشہ تھا کہ اس کے باوجود بھارت نے کوئی ایکشن کرنا ہے، اسی لیے کہا تھا کہ جواب دینا ہماری مجبوری ہوگی کیونکہ کوئی بھی خودمختار ملک کسی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے ملک میں کارروائی کرے اور جج، عدلیہ اور انتظامیہ بن جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے خدشہ اس لیے تھا کہ انڈیا میں الیکشن ہیں ہیں، اس لیے انہیں کہا کہ جواب دینا پڑیگا۔وزیراعظم نے بتایا کہ میری تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بات ہوئی گزشتہ روز صبح اس لیے ایکشن نہیں لیا کہ گزشتہ صبح جب ایکشن ہوا تو ہم پوری طرح نقصان سے آگاہ نہیں تھے، اس لیے جب تک پتا نہیں چلتا تو کوئی بھی ایکشن غیر ذمہ داری ہوتی، اس لیے ہم نے انتظار کیا اور بدھ کو ایکشن کیا، ہمارا پہلے سے منصوبہ تھا کہ اس ایکشن میں کوئی ہلاکتیں نہ ہوں، صرف بھارت کو یہ بتائیں کہ ہم میں بھی صلاحیت ہے، اگر آپ آسکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے طرف آکر کارروائی کرسکتے ہیں۔عمران خان نے بھارت کے 2 مِگ طیاروں کی بارڈر پر انگیجمنٹ اور انہیں گرانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بھارت کے 2 پائلٹ زیر حراست ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے، اس لیے بھارت سے کہتا ہوں کہ یہاں عقل اور حکمت کا استعمال بہت ضروری ہے، جتنی بھی دنیا میں جنگی ہوئیں سب جنگوں میں غلط اندازے لگے، کسی نے نہیں سوچا کہ جنگ شروع کرکے کدھر جائیں گے، پہلے عالمی جنگ مہینوں کے بجائے سالوں میں ختم ہوئی، دوسری جنگِ عظیم میں بھی ایسا ہوا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے 17 سال افغانستان میں پھنسے رہنا پڑے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کو چاہئے تھوڑی سی عقل اور حکمت استعمال کرے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کہ جنگ شروع ہوئی تو میرے اور نہ نریندر مودی کے کنٹرول میں ہوگی ۔انہوںنے کہا کہ پلوامہ واقعہ پر تعاون کیلئے تیار رہیں پھر سے کہونگا کہ اس وقت ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کر نے چاہئیں ۔