پنجاب انسٹیٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کے معاملات پر تحریک التوائے کارپنجاب اسمبلی میں جمع

 
0
285

لاہور جولائی20(ٹی این ایس ):پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی محمد شعیب صدیقی نے55کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے کے4سال بعد بھی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کے فعال نہ ہونے کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کرا دی ہے جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس ادارے کے معاملات انتہائی دگرگوں ہیں منتظمین ابھی تک اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوا سکے مختص گرانٹ سرکاری خزانے میں واپس چلی جاتی ہے جبکہ اخراجات پورے کرنے کیلئے محکمہ اوقاف سے قرض لینے کا سلسلہ جاری ہے ایم پی اے شعیب صدیقی اپنی تحریک التوائے کار میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے50کنال اراضی پر200ارب روپے کی لاگت سے یہ انسٹیٹیوٹ بنانا تھا جہاں پر ابھی تک پرنسپل اور سٹاف کے کمرے ابھی تک خالی ہیں جن کی تعیناتی بھی نہیں کی گئی اور یہاں فرنیچر پڑا ہوا خراب ہو رہا ہے اس ادارے کا مقصد قرآن مجید فرقان حمید اور نبی مکرم حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ پرتحقیق کے حوالے سے کام کرنا تھا لیکن پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ایم پی اے شعیب صدیقی نے اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے عوام میں اس حساس مذہبی معاملے پر بے چینی ،اضطراب اور غم و غصہ پایا جاتا ہے لہذا تحریک انصاف کی طرف سے پیش کردہ اس تحریک التوائے کار کو با ضابطہ قرار دے کر پنجاب اسمبلی میں بحث کی جائے تاکہ حکمرانوں کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف سے مبذول کروائی جا سکے۔