اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان کی عسکری و سول قیادت کی ہم آہنگی نے 2025 کو پاکستان کے لیے تاریخی سال بنایا, پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں شاید ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جب ملک کے وزیراعظم اور فوجی قیادت کے درمیان فکری و عملی ہم آہنگی کی ایسی غیر معمولی فضا قائم ہوئی ہو جیسی آج ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان پائی جانیوالی ہم آہنگی، باہمی اعتماداور ریاستی نظم و استحکام کے مشترکہ وژن نے نہ صرف پاکستان کے داخلی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی ساکھ کو غیر معمولی حد تک بلند کر دیا ہے,
ماضی کے مختلف ادوار میں’’سول اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے‘‘کے دعوے تو ضرور کیے گئے، مگر عملاً وہ توازن اور ہم آہنگی کبھی اتنی مستحکم شکل میں نظر نہ آئی۔
آج یہ دونوں قومی رہنما ،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ، ایک ایسے وقت میں پاکستان کو استحکام اور وقار کی سمت لے جا رہے ہیں جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،
خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور عالمی سفارت کاری کے محور از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں۔
مئی 2025ءکی پاک بھارت جنگ، جس نے محض چار دنوں میں خطے کے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا، پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس جنگ نےدنیا میں نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو منوایا بلکہ قوم کی سیاسی و عسکری قیادت کی یکجہتی کو بھی اجاگر کیا۔
دنیا نے دیکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کس طرح نازک لمحوں میں بروقت فیصلے کیے، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل مشاورت جاری رکھی، اور دونوں نے مل کر ایسی حکمتِ عملی ترتیب دی جس نے دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا,اس نے پاکستان کے قومی وقار کو ایک نئی بلندی بخشی۔
چند برسوں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری چلی آرہی تھی، مئی 2025 ءکی جنگ کے بعد ،صورتِ حال نے یکسر پلٹا کھایا اور دونوں ممالک کے درمیان بڑی گرمجوشی دیکھی گئی ۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دفاعی حکمتِ عملی، فوری فیصلے اور جارحانہ مگر منظم طرزِ قیادت سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ۔انکے قریبی حلقوں نے بعد میں تسلیم کیا کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کے بارے میں کہا کہ وہ فاتح ہیں اور میں فاتحین کو پسند کرتا ہوں، شکست خوردہ کو ہرگز نہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نےاقتدار میں آنے کے بعدجب بھی غیر ملکی رہنماوں سے ملاقات ہوئی اپنی شائستگی، ذہانت اور سفارتی بصیرت سے ان کو بڑا متاثر کیا۔ غزہ امن کانفرنس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے تقریب میں موجود20 ممالک کے رہنماؤں کی پروا کیے بغیرپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا بڑے احترام اور محبت سے ذکرکیا اورخطاب کو روک کر جس طرح پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا ذکر کیا اور کہا ’’میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرے پسندیدہ پاکستان کے فیلڈ مارشل، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لیکن وزیراعظم شہباز شریف یہاں ہیں، اگرشہباز شریف وہ کچھ کہنا چاہیں گے جو اس سے قبل مجھے کہہ چکے ہیں تو مجھے بڑی خوشی ہوگی‘‘ دراصل یہ پاکستان کیلئے ایک بڑا اعزاز تھا،اس سے قبل کبھی کسی دیگر پاکستانی رہنما کوصدر کے خطاب کو روک کر مائیک دینے کی کوئی مثال موجود نہیں,عالمی میڈیا میں پاکستانی قیادت کے بارے میں جو مثبت تبصرے کیے اس سے قبل اسکی کوئی مثال نہیں ملتی,برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھاتھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وہ کچھ حاصل کرلیا جسکا پاکستان کے دیگر رہنما صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھےجبکہ امریکی تجزیہ کار رابرٹ ریڈمین نے CNN پر کہاتھا کہ پاکستان کی قیادت کی جوڑی نے بحران کو موقع میں بدل دیا ، انہوں نے نہ صرف ملک کی شبیہ کو بحال کیا بلکہ اس کی تزویراتی مطابقت کو بھی از سر نو بیان کیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل تک ایک ایسا ملک جو کبھی عالمی میڈیا میں منفی تناظر میں پیش کیا جاتا تھا اب ایک مستحکم، پُراعتماد اور مؤثر ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے, اس تبدیلی کی بنیاد سیاسی عزم، عسکری نظم اور قیادت کی باہمی ہم آہنگی ہے,
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری بصیرت اور وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی حکمت نے دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ پاکستان اب نہ صرف اپنے دفاع میں خودکفیل ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے,
ان دونوں شخصیات کے درمیان موجود باہمی احترام، نظم و ضبط، اور قومی ترجیحات پر غیر متزلزل اتفاقِ رائے ہی پاکستان کے نئے دور کی بنیاد ہے,
سنگین چیلنجز اور موجودہ نازک حالات کے باوجود فوجی قیادت اور سول قیادت کے درمیان ہم آہنگی قائم ہے جو پاکستان کے لیے نہایت مفید اور حوصلہ افزا ہے,
اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ آج پاکستان میں فوجی قیادت اور سول قیادت ایک پیج پر، ہم خیال اور شانہ بشانہ کھڑی ہے,
یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے پاکستان ایک اسلامی اور ایٹمی ملک ہے اور اس کی حفاظت، ترقی اور استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس طرح کے حالات ہیں، ہمیں اپنی فوج کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے,
حکومت نے ملک کو ایک مستحکم راستے پر گامزن کیا ہے، لیکن جو خامیاں ہیں ان کی ذمہ دار ماضی کی حکومت ہے جس نے ملک میں اس طرح کے حالات پیدا کیے , اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، ہمیں اتحاد اور سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ ملک و ملت کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق دے, آمین یارب العالمین……
خیال رہے کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ سویلین اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیچ پر ہے، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللّٰہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنی ہے۔ صوبائی سیاسی قیادت کو مکمل کلیئرٹی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے، یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول و عرض میں عوام کو بھی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا, کسی کی سیاست اور کسی کی ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں,دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (خیبرپختونخوا) فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اللہ بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟‘۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس بھی چلائے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔ انہوں نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق ایک بیان دکھایا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجک اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔ اے این پی کی مثال دیتے ہوئے جسے دہشت گردی کی مخالفت کرنے پر دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مرنے کے لیے تیار نہیں، ہم کھڑے نہیں ہوں گے، ہم ان کے ساتھ جا ملیں گے۔ انہوں نے پھر پی ٹی آئی کا نام لیے بغیرسوال اٹھایا کہ دہشت گردوں نے کبھی اس جماعت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشت گرد سےکوئی ہمدردی نہیں، دہشت گردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق کو غالب ہی آنا ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ ایک ساتھ لڑنا ہے، جیتنا ہے، غیر قانونی ہتھیاروں کا براہ راست دہشت گردی کے ساتھ تعلق ہے، پنجاب میں ایک مہاجر کیمپ تھا جو کلیئر ہوگیا، بلوچستان میں بھی مہاجر کیمپ کلیئر ہوگئے ہیں، خیبر پختونخوا میں موجود مہاجر کیمپ ابھی باقی ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت ہر فورم پر دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے ایرانی ڈیزل سے دہشت گردی کی فنڈنگ کی جاتی تھی، اب تیل درآمد ہوکر آرہا ہے جس پر ٹیکس ملتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء سے افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا، طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنا رہے ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے، ان کے بارے میں کلیئرٹی سے بتایا جاتا ہے کہ یہ خوارج ہیں، جب ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ سوال کیاجاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہیں جن کے لیے لڑنا ناصرف ضروری ہے بلکہ جائز ہے، ہم دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں, سال 2025ملک میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے,75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جن میں 12 سو35 شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئےڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں،ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے, سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔, پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں , ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنتہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ انڈیا خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور یہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے, گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس، خضدار میں اسکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں, ان تمام واقعات میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے،جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت اقدامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔ گز شتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا ’2021 میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی‘ انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نہ کہ ٹی ٹی اے کو نشانہ بنایا، ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے،اس پر نظر ڈالیں تو 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں، دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانوں نے کیے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں۔ یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔ پاکستان میں 2021 میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کی اور ان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ وہاں افغانستان میں ایک بڑی بساط بچھائی جا رہی تھی, یہ اشارہ اُس وقت کی پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب آپ دہشت گردوں کو اتنی گنجائش اور وسائل فراہم کرتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ نظر آتا ہے, 2023 میں ریاست نے ان کے خلاف کھڑا ہونا شروع کیا۔2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے, انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے, تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور انہیں سبق سکھایا گیا, بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشت گردی کو خوب ہوا دی۔بھارت نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا,معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا ہونا دنیا بھر نے دیکھا، بھارت کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے، یہ حق بھارت کو کسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائےبھارت کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔ پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں پر حملے کیے گئے، افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے، پھر جو ضروری تھا وہ کیا گیا اور ایک ہارڈ میسیج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کر دیے، دیکھنے والوں اور سمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، افغانستان میں انکلیوسو گورنمنٹ نہ ہونے سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں۔دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں, جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں 8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے, جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں۔ ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، خارجیوں نے آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کرتے ہیں، فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، ہم ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کے لیے کرتے ہیں۔ فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی، کور کمانڈر پشاور درجنوں جگہوں پر جا چکے ہیں اور روز جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے، فلڈ ریلیف کی سرگرمیاں اور سڑکیں کلیئر کی جا رہی ہیں، جو کلیئرٹی اس سال پاکستانی قوم کو ملی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کلیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے، ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔افغان طالبان کو مودی کی شکل میں ایک نیا ہیرو مل گیا ہے
انہوں نے کہا کہ اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا، یہ کلیئرٹی علماء اور مشائخ کو بھی ہے، دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے نیکسز کے بارے میں آئی، دہشت گردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا مذہب کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں میں لمبے پڑ جاؤ، افغان طالبان کو مودی کی شکل میں ایک نیا ہیرو مل گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025 میں کھل کر سامنے آگئے ہیں، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں، ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جاپان، چین، امریکا سب یہی بات کر رہے ہیں، ایران اور یورپ نے افغانیوں کو نکالنا شروع کیا، امریکا بھی کہہ رہا ہے کہ ان کو یہاں سے نکالنا ہے یہ دہشت گردی میں ملوث ہیں، درجن سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کے زیر سایہ پل رہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یو این کہہ رہا ہے کہ 20 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں پل رہی ہیں، پاکستان کے ٹیکس پیئر کا حلال کا پیسہ اس جنگ پر لگ رہا ہے،2021 میں دہشت گردی نے سر اٹھانا شروع کیا،2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا۔ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پاکستان میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے













