اسلام آباد (ٹی این ایس) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ ایک سال سے مذاکراتی چینل کی بندش سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ملکی معیشت کے لئے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے سیاسی جھگڑوں کو ایوان کے اندر نمٹانے کے بجائے سڑکوں اور ذرائع ابلاغ پر انہیں طول دینے کا خمیازہ ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے گزشتہ ایک سال کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی شہریوں میں دھرنے اور جلسے حکومت کی جانب سے گرفتاریوں اور مقدمات کی مکدر سیاسی فضا نے مثبت میکرو اکنامک اشاریوں کے باوجود ملکی اقتصادیات کو جمود سے نکلنے نہیں دیا حکومت کی ذمہ داری نظام وانصرام کو احسن انداز سے چلانا اور حزب اختلاف کی ذمہ داری حکومتی اعمال پر کڑی نظر رکھنا اور محا سبہ کرنا ہوتی ہے مگر دونوں فریق اپنی بنیادی پارلیمانی ذمہ داریوں سے لاتعلق نظر آتے ہیں گزشتہ چار برس کی بے نتیجہ سیاسی کشمکش سے یہ حقیقت زیادہ واضح ہوتی ہے کہ ایسی کوششوں کا حاصل ملک اور عوام کے لئے خسارے کے سوا کچھ نہیں سیاسی جماعتوں میں اختلافات کو رد نہیں کیا جاسکتا مگر اصولی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں قومی دائرے میں ایک ساتھ گردش کرنے کی گنجائش پیدا کرلیتی ہیں یہی قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے کہ سیاسی قوتیں ٹکراؤ کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ ہوجائیں کہ ان کے اصولی اختلاف سے بھی قومی مفاد کے لئے خیر برآمد ہوا یہی خوبی جمہوریت کے استحکام کا باعث بنتی ہے جس کے فوائد سیاسی جماعتوں کو بھی حاصل ہوتے ہیں بد قسمتی سے سیاسی ناپختگی انا اور ذاتی سیاسی مفادات کے بوجھ تلے دبی سیاست اور جمہوریت دونوں سڑکوں پر خوار ہو رہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس پاکستان کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کے لئے وقت ہے نہ ہی یہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے ہمارے جمہوری رویوں میں انانیت اور نا اتفاقی کے نتیجے میں ملک کو بحران در بحران مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے اور ملک کے عوام بیچارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ملک میں سیاسی عدم استحکام اس وقت آتا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتیں مکالمہ ترک کریں اور تصادم کا راستہ اختیار کریں وطن عزیز کو اس وقت کسی غیر جمہوری نظام کی وجہ سے معاشی مشکلات کا سامنا نہیں بلکہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان عدم اعتماد اور شخصیت پرستی کی سیاست سے پیدا ہونے والے عوارض کے باعث ملک میں انتشار’ افراتفری سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی کیفیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے اناؤں کو تسکین دینے کے لئے ملک میں ایسی سیاسی انتشار اور بے یقینی کی فضا پیداکی جارہی ہے جس سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہورہا ہے سیاسی اقتصادی و دفاعی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اقتصادی بہتری کے لئے ملک میں سیاسی استحکام ایک بنیادی شرط ہے جس کے بغیر ملکی معیشت میں بہتری کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنا اسے جاری رکھنا ایسی سیاسی مفاد پرستی ہے جو ملک کو اقتصادی طور پر تباہ کرکے زمین سے لگانے کے ہولناک خطرات کا سبب بن سکتی ہے پاکستان آج ایک ایسے سیاسی میثاق کا متقاضی ہے جو کسی ایک فرد جماعت یا گروہ کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم آنے والی نسلوں اور ملک کیلئے ہو ہمارے سیاسی رہنماء اکثر و بیشتر انتہائی درد مندی کے ساتھ ملکی سیاسی اور جمہوری تاریخ کو بیان کرتے ہوئے یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے یہاں جمہوریت کی راہ میں فلاں فلاں روکاٹیں کھڑی کی گئیں ملک میں جمہوریت کو کام کرنے اور اپنی اصلاح کا مناسب موقع نہیں مل سکا یہ ساری باتیں بجا ہیں مگر یہ سوال بھی موجود ہے کہ اس کی ذمہ داری سے سیاسی جماعتیں خود کو مستثنی کیسے قرار دے سکتی ہیں؟ ہم ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتے البتہ اصلاح احوال کے ذریعے مستقبل کو ماضی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے اور اس کا پہلا قدم سیاسی مفاہمت کی سنجیدہ کوششوں سے ممکن ہے اس عمل سے فوری نتائج کی توقع نہ بھی ہو کم از ایک دریچہ تو کھلنا چاہیے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے مثبت خطاب ملککو تناؤ اور دباؤ سے نکالنے سیاسی کشیدگی میں کمی اور سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کے علاوہ آگے بڑھنے اور مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے لگتا ہے کہ اہل سیاست نے اس بات کو محسوس کرلیا ہے کہ تناؤ اور ٹکڑاؤ سیاست کے لئے اچھا نہیں اور جمہوریت کا مستقبل ڈائیلاگ کے ساتھ ہی وابستہ ہے ملک کا سیاسی درجہ حرارت اگر اعتدال پر آجائے تو کسی شک و شبہ کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے اور گزشتہ سال ملک کو ملنے والی معاشی و سفارتی کامیابیوں کو ٹھوس بنیاد میسر آئے گی سیاسی مفاہمت کا فروغ خود سیاست اور جمہوریت کے محفوظ مستقبل کی بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے لہذا سیاست دان جارحانہ طرز عمل کو خیر باد کہہ کر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں اسی میں ملک وقوم کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کی بھلائی بھی ہے**












