مجھے ایک ہفتے میں اتائیوں کےخلاف ایکشن چاہیے‘ چیف جسٹس

 
0
667

پشاور اپریل 20(ٹی این ایس): سپریم کورٹ رجسٹری میں اتائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیئرمین ہیلتھ کیئرکمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کے صوبےمیں کتنے اتائی ہیں؟ جس پرانہوں نے جواب دیا کہ 15 ہزاراتائی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اتائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران چیئرمین ہیلتھ کیئرکمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے، تنخواہ کیا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں پانچ لاکھ روپے تنخواہ لیتا ہوں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ تنخواہ آپ کی پانچ لاکھ روپے اور کام صفر ہے، انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے صوبے میں کتنے اتائی ہیں؟ جس پر چیئرمین ہیلتھ کیئرکمیشن نے جواب دیا کہ 15 ہزاراتائی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگوں کی زندگیاں تباہ کررہے ہیں، چیئرمین ہیلتھ کیئرکمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اتائیوں کےخلاف ایکشن لیا، 122 کلینک سیل کیے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کوئی اسٹے آرڈرجاری نہیں کریں گے، کسی نے اسٹے آرڈرلینا ہے توسپریم کورٹ آئے، پورے صوبے میں اتائیوں کوبند کریں۔سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں پینے کے صاف پانی سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے پاس نہ لیب ہے نہ اعلیٰ مشینری ہے، انہوں نے واٹرسیفٹی حکام سے استفسار کیا کہ آپ پانی کیسے ٹیسٹ کراتے ہیں؟۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پشاور کے مختلف مقامات سے پانی کے سیمپل لینے اور پشاور کا پانی پنجاب سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روزپشاور میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انصاف انصاف ہے، تول کر دیا جانا چاہیے۔