میک اپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلزذیابیطس کی وجہ بن رہے ہیں، ماہرین

0
269

میک اپ، ٹافیوں، ٹوتھ پیسٹ اور روغن کا عام رنگ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ ذیابیطس کی وجہ بن رہا ہے،رپورٹ
کراچی6اگست(ٹی این ایس)غذاؤں اور میک اپ میں استعمال ہونے والے انتہائی مضر کیمیکلز پر آئے دن رپورٹیں چھپتی رہتی ہیں،امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام میک اپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن رہے ہیں۔آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے کہا ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ ایک عام سفید رنگ ہے جو کاسمیٹکس سے لے کر ٹافیاں بنانے تک میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

اس کی خاطر خواہ مقدار ایسے افراد کے لبلبوں میں ملی ہے جو پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار ہوچکے تھے۔اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔ انسانی جسم میں کئی دھاتوں کی موجودگی کے باوجود یہ رنگ(پگمنٹ)صحتمند انسانی ٹشوز اور خلیات میں نہیں پایا جاتا۔ اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کی اشیا سے انسانی جسم میں پہنچ رہا ہے۔

اس کیلیے ڈاکٹروں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 8 مریضوں اور 3 صحمتند افراد کے عطیہ کردہ لبلبے لے کر انہیں چیر پھاڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ شوگر سے محفوظ افراد کے لبلبوں میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ موجود نہیں تھا جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لبلبوں میں اس دھات کے ذرات موجود تھے۔ماہرین نے فی گرام لبلبے میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے 20 کروڑ ذرات دیکھے ہیں جو بہت بڑی مقدار کو ظاہر کرتے ہیں۔

لیکن شوگر سے بچ رہنے والے مریضوں میں ان کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے یہ ذرات میک اپ مصنوعات اور ٹافیوں یا مٹھائیوں کے ذریعے بدن کے اندر پہنچے ہیں۔اس وقت مٹھائیوں، روغن، میک اپ، دواں ، ٹوتھ پیسٹ، پلاسٹک، کاغذ، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ اندھا دھند استعمال ہورہا ہے۔ 1960 سے اب تک اس کی سالانہ عالمی کھپت 40 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت(ڈبلیو ایچ او)کے مطابق گزشتہ چالیس برس میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 400 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے وبائی پھیلاؤ میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here