وزیر اعظم پاکستان کے ایڈوائرز برائے اداروں میں اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد سے ملاقات کی

 
0
355

اسلام آباد جولائی 19 (ٹی این ایس): وزیر اعظم پاکستان کے ایڈوائرز برائے اداروں میں اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سی ڈی اے کے بورڈ کے ممبر فنانس، ممبر ایڈمنسٹریشن واسٹیٹ، ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن اور ممبر انجینئرنگ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے سی ڈی اے کی تنظیم نو، ادارے کو فعال بنانے کے لیے مختلف اصلاحات اور ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے ڈاکٹر عشرت حسین کو ادارے کے انتظامی ڈھانچے اور مختلف شعبوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ڈاکٹر عشرت حسین کو موجودہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی ہدایات کی روشنی میں ادارے میں کی جانے والی اصلاحات اور مختلف شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا جبکہ سی ڈی اے بورڈ کے ممبران نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی اور ان شعبوں میں بہتری لانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم پاکستان کے ایڈوائزر برائے اداروں میں اصلاحات و کفایت شعاری نے سی ڈی اے کو عوام دوست ادارہ بنانے اور موجودہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق شہریوں کو سہولیات بہم پہنچانے، غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول کرنے اور مطلوبہ اصلاحات لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید اپ گریڈ کرنے کے علاوہ مختلف شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمہ گیر اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ادارے کی تنظیم نو، انتظامی ڈھانچے کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں مالیاتی ڈسپلن کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے تمام شعبوں کی طرف سے شہریوں کو دی جانیو الی سروسز کو بھی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے حکومت کی طرف سے اداروں میں گڈ گورننس اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی ہدایات کی روشنی میں سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ بنائی جانے والی پالیسیوں میں حکومت کے وژن کو مدِ نظر رکھیں تاکہ ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔