اپوزیشن کی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور نیب آرڈینس میں ترمیم پر تنقید

 
0
266

اسلام آباد جنوری 01 (ٹی این ایس): سینٹ کے اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترمیم سمیت دیگر معاملوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے. بدھ کے روز اجلاس کے دوران سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئین موجود بھی ہے اور معطل بھی کیونکہ اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا‘پارلیمان کو غیر فعال بنا دیا گیا ہے پارلیمان کا کام قانون سازی ہے لیکن آپ نے ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری میں تبدیل کردیا ہے.تاہم فواد چوہدری نے آرمی چیف قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع جیسے اہم معاملات پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے.رضآ ربانی نے کہا ہے کہ گذشتہ برس پارلیمان میں حکومت کا احتساب نہیں ہو پایا اور سینیٹ میں مشرف کیس پر بحث ہونی چاہیے انہوں نے سوال کیا کہ کیا نیب صرف سیاست دانوں کے احتساب کے لیے ہے نیب کے قانون میں ترمیم سے سرمایہ دار، بیوروکریٹ، ججز اور فوج کو اس کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا ہے.
انہوں نے تجویز دی کہ سب کے احتساب کے لیے ایک قانون اور ایک ادارہ ہونا چاہیے جو برابری کی سطح پر سب کا احتساب کرے اس میں عدلیہ، فوج اور بیوروکریٹ سب شامل ہونے چاہیں کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے. انہوں نے دعویٰ کیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کی وجہ سے فوج کے قومی ادارے کو شرمندگی اٹھانی پڑی. اجلاس کے دوران وفاقی وزیرفواد چوہدری نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے ادارے آپس میں دست و گریبان ہیں میری گزارش ہے کہ ہمارے ادارے تمام معاملات میں قصور وار ہیں نہ بے قصور غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں غلطلیاں ہم سے بھی ہوئی ہوں گی، اپوزیشن سے بھی، غلطلیاں عدلیہ میں بھی ہوئی ہوں گی اور فوج سے بھی ہوئی ہوں گی.انہوں نے اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد نوجوانوں کا مستقبل ہونا چاہیے اگر ہم آپس میں دست و گریبان رہے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا‘حکومت اور اپوزیشن میں تلخیاں رہیں گی لیکن ضرورت ہے کہ اہم معاملات میں اتفاق رائے سے کام لیا جائے، جیسے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری، اس کے چیئرمین کی تقرری، احتساب کے نظام کا تعین ورنہ ملک اور جمہوریت نہیں چل سکیں گے.
انہوں نے کہا کہ فوج کے قانون پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوسکتا ہے فوج صرف حکمران جماعت کی نہیں ہے، فوج مسلم لیگ ن کی بھی اتنی ہی ہے جتنی پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جو یو آئی کی ہمارے ادارے سب کے لیے برابر کے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہمیں معا ملات چلانے چاہیں، چاہے وہ عدلیہ میں ججز کی تقرری سے متعلق ہوں‘فواد چوہدری نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ آئین میں وزیر اعظم کا احترام واجب ہے یہ بھی ایک ادارہ ہے ان کا احترام لازم ہے.
انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ اور عدلیہ کا احترام کرتا ہوں لیکن ہماری عدالتیں آرٹیکل 62، 63 پر ہمارا فیصلہ کرنا چاہتی ہیں وہ ہمارا احتساب کرنا چاہتے ہیں لیکن خود عدلیہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں نہیں آنا چاہتی اس طرح کیسے چلے گا.انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق اہم ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن پر عائد ہے۔ ’نئے سال کا آغاز احتساب کے نظام کا تعین سمیت اہم معملات پر بات کر کے کرنا چاہیے.سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ملائیشیا، ترکی اور ایران نے سپورٹ کیا، وزیراعظم کا کوالالمپور جانے کا فیصلہ اچھا تھا.
رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ اس دوران آپ نے سیاسی خودمختاری کو سعودی عرب کے سامنے گروی رکھ دیا جب آپ نے کہا کہ سعودی عرب نے منع کردیا ہے کہ آپ ملائیشیا نہیں جائیں گے.جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نئے سال کی پہلی خبر نے ہی بلڈ پریشر بڑھا دیا، حکومت نے بجلی، پٹرول اور آٹے کی قیمت میں اضافہ کردیا. سراج الحق نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام ہی قانون سازی ہے، عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، ہم جائزہ لیں ہم نے ایک سال میں کیا قانون سازی کی ہے؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں اگر ہم کوئی کام نہیں کرسکے تو وہ قانون سازی نہیں کرسکے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے خود دلچسپی نہیں لی، اگر کوئی کام ہوا تو قائد ایوان پیش کریں.
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غربت سے نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ہمت کریں، دباﺅ میں نہ آئیں، چوری ایک روپے کی ہو یا ایک ارب کی، چوری ہوتی ہے. انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے 27ستمبر کو یو این او میں آ پ کا ساتھ دیا آج وہی آپ سے شاکی ہیں‘سراج الحق نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کی کیفیت ہے، پہلی بار تاریخ میں دیکھا کہ وزیراعظم جلسہ عام میں کھڑے ہوکر بڑی عدالت پر تنقید کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے لیے غدار کا لفظ سب سے پہلے عمران خان کے منہ سے سنا امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں طے کیا ہے کہ 50 کروڑ کا غبن معاف ہے، اس کامطلب یہ ہوا کہ آپ نے 50 کروڑ کے حرام کو حلال کردیا.