پولیس اہلکار شہریار نے عامر پر 2 گولیاں چلائیں، اعترافی بیان

 
0
107

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکاروں نے افسران کے سامنے اعترافی بیان دے دیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق اعترافی بیان میں گرفتار اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اہلکار شہریار نے نوجوان عامر پر یکے بعد دیگرے 2 گولیاں چلائیں۔

تفتیشی حکام نے بتایا ہے کہ ملزمان کے اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ عامر سے اسلحہ نہ ملا تو پولیس اہلکاروں کی جانب سے سرکاری پستول دکھا کر برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا۔

بیان میں گرفتار اہلکاروں کا کہنا ہے کہ عامر نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو ہمیں گمان ہوا کہ اس نے پستول نکالا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تینوں اہلکاروں کو راشد منہاس روڈ پر موٹر سائیکل پیٹرولنگ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ فائرنگ کرنے والا اہلکار شہریار اور اہلکار ناصر 2018ء میں، تیسرا اہلکار فیصل 2012ء میں بھرتی ہوا۔

تفتیشی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقتول عامر کا پولیس کے پاس کوئی کریمنل ریکارڈ موجود نہیں ہے، واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس نے نوجوان کو گھر کی دہلیز پر قتل کیا

واضح رہے کہ گزشتہ روز گلستانِ جوہر کراچی میں گھر کی دہلیز پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

عینی شاہد چوکیدار کے بیان کے مطابق عامر کو گولی گھر کے باہر ماری گئی۔

گرفتار پولیس اہلکاروں کے بیانات میں تضادات پایا گیا، ایس ایس پی ایسٹ نے اعتراف کیا کہ ملزم اہل کاروں کا یہ مؤقف درست نہیں لگتا کہ ان پر فائر کیا گیا۔

مقتول کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل نہ روکنے پر اہل کار پیچھا کرتے آئے اور عامر کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عامر گلستانِ جوہر میں اپنے اپارٹمنٹ میں موٹر سائیکل کھڑی کر کے سیڑھیوں کی طرف دوڑا اور اچانک پولیس کی گولی لگنے سے گر پڑا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کر لیا جس میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقتول عامر کی والدہ نے حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔