اسلام آباد (ٹی این ایس) آئی جی نے سینئر پولیس افسران کو وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے اور اداروں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کئے۔
تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت سنٹرل پولیس آفس اسلام آباد اور ایس پی رورل زون آفس میں اہم اجلاس منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں میں ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، اے آئی جی آپریشنز شعیب مسعود، اے آئی جی اسپیشل برانچ محمد سرفراز ورک، ایس ایس پی سی ٹی ڈی ارسلان شاہزیب، سی ٹی اواسلام آباد حمزہ ہمایوں، زونل ایس پیز اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔آئی جی اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے، حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ آئی جی اسلام آباد نے واضح کیا کہ پیشگی معلومات کی بروقت ترسیل اور باہمی تعاون ہی مو¿ثر انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔بعد ازاں آئی جی اسلام آباد نے سی ٹی او اسلام آباد اور سیف سٹی آئی ٹی ٹیم کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں ڈیجیٹل سروسز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے آن لائن سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انہیں ٹریفک مینجمنٹ، ای چالان سسٹم، لائسنسنگ سروسز اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ آئی جی اسلام آباد نے ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد پولیس، بالخصوص ٹریفک پولیس کی تمام ڈیجیٹل سروسز کو اپ گریڈ کیا جائے اور موبائل ایپس کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر عوامی مسائل کا فوری اور موثر حل یقینی بنایا جائے تاکہ شہری گھر بیٹھے ٹریفک، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر متعلقہ خدمات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ آئی جی اسلام آباد نے ایس پی رورل زون آفس میں منعقدہ اجلاس میں زونل ایس پیز سے اپنے اپنے علاقوں میں جرائم کی صورتحال اور کارکردگی سے متعلق بریفنگ لی۔انہوں نے تمام افسران کو جرائم کی بیخ کنی کے لئے سرچ اور کومبنگ آپریشنز میں تیزی لانے، سنگین مقدمات کی فوری تفتیش اور بروقت چالان پیش کرنے، مشکوک سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کرنے اور اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف موثر کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے شدت پسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاون اور مذہبی عبادت گاہوں سمیت حساس تنصیبات کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔علاوہ ازیں آئی جی اسلام آباد نے سنٹرل پولیس آفس میں “اوپن ڈور پالیسی” کے تحت کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شہریوں اور پولیس افسران کے مسائل سنے اور متعدد شکایات پر موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کے مسائل کو میرٹ، شفافیت اور فوری کارروائی کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ آئی جی اسلام آباد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے، اور اگر کسی شہری کو پولیس سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ بلاجھجھک کھلی کچہری میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “میرے دروازے ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے کھلے ہیں، اور عوامی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے





















