پاکستان پیپلز پارٹی ایک طرف پی ٹی ایم کو سپورٹ کرتی ہے دوسری جانب راؤ انوار کو بہادر سپوت بھی کہتی ہے

 
0
351

راولپنڈی اپریل 29 (ٹی این ایس): ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جماعت پٹھان تحفظ مومنٹ کو سپورٹ بھی کرتی ہے جبکہ راؤ انوار بھی انکا ہی بچہ ہے۔ یاد رہے کہ پٹھان تحفظ مومنٹ نقیب محسود کے قاتل راؤ انوار کو گرفتار کرنے کا کئی بار مطالبہ کیا ہے اور سابق صفدر آصف علی زرداری ایک بار کہہ چکے ہیں کہ راؤ انوار بہادر بچہ ہے ۔
آصف علی زرادری نے ایک انٹر ویو میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ راؤ انوار ان بہادر بچوں مین سے ہے جو ایم کیو ایم سے لڑنے میں بچ گیا۔ پٹھان تحفظ مومنٹ کئی بار مطالبہ کر چکی ہے کہ راؤ انوار کو گرفتار کیا جائے، پیپلز پارٹی نے راؤ انوار کو اپنا بچہ بھی کہا اور پٹھان تحفظ مومنٹ کو بھی سپورٹ کرتے ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور کے اس بیان پر چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ راؤ انوار اب پرانی بات ہو گئی ہے۔
اگر ادارے ایسے بیانات سے سیاست کا بیانیہ بدلنے کی کوشش کریں گے تو متنازع ہو جائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے جلسے میں جانے والوں کو کیا معلوم پیسے کہاں سے آئے، پی ٹی ایم کے جلسے میں وزیراعظم عمران خان گئے یا آپ گئے یا کوئی اور گیا، آپ لوگوں کو تو نہیں پتا کہ پیسے کہاں سے آئے؟ وزیراعظم نے بھی کہا کہ پی ٹی ایم کا ایجنڈا اچھا ہے، لیکن جو آج میں نے سوالات اٹھائے ہیں ان کا توکسی کو نہیں پتا تھا؟ انہوں نے آج میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ این ڈی ایس اور را نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے؟ کیوںافغانستان کو کہا گیا کہ طاہر داوڑ کی لاش پاکستان کو نہ دینا۔
آپ بیرون ملک جا کر پاکستان کے دشمن لوگوں سے کیوں ملتے ہیں؟ منظور پشتین کا کون سا رشتہ دار تھا جو بھارتی قونصل میں گیا؟ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم کہتی ہے کہ فوج سے لڑیں گے، لیکن کوئی بھی ریاست سے نہیں لڑ سکتا، پی ٹی ایم پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا ؟ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا ایک ہی بیانیہ کیوں ہے؟ جب گلے کاٹے جا رہے تھے تو پی ٹی ایم کہاں تھی؟ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ لاپتا افراد سے ہمارا دلی لگاؤ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ے ایک مرتبہ پھر بھارت کو خبردار کر دیا اور کہا کہ آپ ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں اگر کوئی ایسا وقت آیا تو افواج پاکستان 207 ملین پاکستانیوں کی سپورٹ سے اور اللہ کے کرم سے بھرپور کارروائی کرے گی اور 27 فروری کو دوہرائے گی۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ 1971ء نہیں ہے، نہ ہی وہ فوج ہے، نہ ہی وہ حالات ہیں۔ اگر 1971ء میں ہمارا آج کا میڈیا ہوتا ، جو حقائق پر بات کر سکتا ،حالات کی رپورٹنگ کر سکتا، جو زیادتیاں ہوئیں ان کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ میڈیا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور تین دن کی جنگ سمیت گذشتہ دو دہائیوں میں جو کردار ادا کیا اس سے بہتر کردار اور نہیں ہو سکتا تھا۔