سائبر کرائم ایکٹ کے حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائیں ٗچیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی

0
141

اسلام آباد جولائی19(ٹی این ایس ) اراکین سینٹ نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کے حوالے سے خدشات دور کئے جانے چاہئیں ٗقانون سے کوئی بھی ماورا نہیں ٗتمام معاملات ایک قاعدے اور ضابطے کے اندر ہونے چاہئیں ٗ میڈیا کیلئے بھی باقاعدہ ضابطہ ہونا چاہئے ٗ کسی بھی مذہب، کلچر، زبان اور قوم کے خلاف پراپیگنڈا قبول نہیں جبکہ وزیرمملکت انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ قانون کے تحت پی ٹی اے کوئی بھی ویب سائیٹ بند کر سکتا ہے ٗ اس قانون میں کمی بیشی کی گنجائش رہے گی۔

بدھ کو سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن اور دیگر ارکان کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے غلط استعمال سے اظہار رائے کی آزادی کو واضح طور پر خطرات لاحق ہیں اور صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات کا بھی ازالہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ اس ایکٹ کی آڑ میں کسی کو نشانہ بنانا اور اس کے تحت کارروائی کرنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ اگر زیادتی ہوگی تو اس کا ازالہ کون کرے گا۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اس وقت مختلف حلقوں میں بحث ہو رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ قانون سے کوئی بھی ماورا نہیں ہے اور تمام معاملات ایک قاعدے اور ضابطے کے اندر ہونے چاہئیں۔ سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام وقت کی ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے تمام متعلقہ لوگوں کے خدشات کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میڈیا کے لئے بھی باقاعدہ ضابطہ ہونا چاہئے۔

اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو پھر بعد میں اگر وہ الزام سے بری ہو جائے اور اس کے خلاف الزام غلط ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کا ازالہ کون کرے گا اس لئے ہمیں ایک صاف منظم اور شفاف معاشرہ بنانے کے لئے ان چیزوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ کسی بھی مذہب، کلچر، زبان اور قوم کے خلاف پراپیگنڈا قبول نہیں۔ مثبت سوشل میڈیا کے حق میں ہیں لیکن اس کے غلط استعمال کی حمایت نہیں کریں گے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ آزادی اور حقوق کی جدوجہد جاری رہنی چاہئے کیونکہ اگر آزادی نہیں ہوگی تو پھر ذمہ داری بھی نہیں ہوگی، ہمارے ایمان اتنے کمزور نہیں ہیں کہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکے تاہم ہمیں اپنے رویوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ ایوان بالا سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بل کی منظوری کے چھ ماہ کے اندر رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی لیکن ابھی تک رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ سینیٹر حافظ حمد اﷲ نے کہا کہ آئین کے تحت اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی تاہم آزادی اظہار رائے بھی ایک حد کے اندر ہونی چاہئے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے اس بل پر زیادہ دلچسپی لی، قوانین تو بن جاتے ہیں مگر اصل مسئلہ ان کے نفاذ کا ہے، اس بارے میں کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اس قانون کا صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ قائد حزب اختلاف اعتزاز حسن نے کہا کہ جب یہ قانون بن رہا تھا تو ہمارے ذہنوں میں بہت سے خدشات تھے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لئے قومی سلامتی کا سہارا لے کر یہ قانون تلوار کی طرح چلنا شروع ہوا، دنیا میں جو ریاستیں قومی سلامتی پر استوار ہیں، جن کی پہلی ترجیح قومی سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں قومی سلامتی پر مبنی ریاستیں ناپید ہوگئی ہیں، سوویت یونین، ایسٹ جرمنی کی مثالیں سامنے ہیں، کیا کچھ نہیں تھا روس کے پاس، بیلسٹک میزائل تھے، ہر قسم کے ہتھیار تھے لیکن آج دنیا کے نقشہ سے سوویت یونین مٹ چکا ہے اس کے برعکس سوئیڈن، ناروے، ڈنمارک بنیادی طور پر فلاحی ریاستیں ہیں، ان کا شہری زیادہ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان قومی سلامتی کی ریاست بن گیا ہے، فلاحی ریاست میں ہر شہری ریاست کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کی ریاست میں قومی سلامتی کے ادارے پہلی ترجیح ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی آپ کے بس سے باہر ہے۔ سائبر کرائم کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔ اگر پاکستان قومی سلامتی کی ریاست کی بجائے فلاحی ریاست بنے تو پاکستان کا شہری خوشحال ہوگا اور یہ ملک ترقی کرے گا اور قومی سلامتی بھی محفوظ ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس بل پر جو بھی کام ہوا ہے کمیٹی آف ہول میں اس کا جائزہ لیا جائے۔وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ بنا، تمام ممبران نے اس بل پر بہت محنت کی، پاکستان کی تاریخ میں دونوں ایوانوں میں اس بل پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ بل کا نفاذ ایف آئی اے کا کام ہے، اس بارے میں وزیر مملکت برائے داخلہ ایوان میں موجود ہیں، وہ اپنا موقف دیں گے۔ انٹرنیٹ گورنس کے لئے کئی فورم موجود ہیں، کچھ ویب سائیٹس ایسی ہیں جنہیں بند نہیں کیا جا سکتا۔ پی پی پی کے دور میں یو ٹیوب کو بند کیا گیا لیکن وی پی این کے ذریعے یہ چل سکتی تھی۔ سیکوئر ویب سائیٹس کو بند کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا، youtube.pk کے نام سے پاکستان کا اپنا یو ٹیوب بنا۔

انہوں نے کہا کہ ایک پراسیس کے بغیر ہم کسی ویب سائیٹ کو بند نہیں کر سکتے کیونکہ سیکورٹی ادارے اسے مانیٹر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں انہیں مینڈیٹ دیا گیا کہ وہ شکایت درج کرائیں، پی ٹی اے اس پر کارروائی کر ے گا۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ہدایت کی ہے کہ سائبر کرائم ایکٹ کے حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بحث سمیٹنے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس بل کو منظور ہوئے چھ ماہ سے زائد عرصہ گذر چکا ہے۔ اس بل کے بارے میں رپورٹ دونوں ایوانوں میں ایک ماہ میں پیش کی جائیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے کہا کہ انہوں نے بل کے بارے میں سیکریٹری داخلہ کو ایک ہفتہ کے اندر رپورٹ تیار کرنے کا کہا ہے۔ ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے اس میں تفصیلی رپورٹ تیار کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سب نے مل کر اس قانون کو بنایا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی کمیٹی ایف آئی اے کو بلائے گی، ایف آئی اے اس میں پیش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں 559 انکوائریاں رجسٹرڈ ہوئیں، اس بل میں ایک میکنزم ہے، ایف آئی اے انکوائری رجسٹر کر کے مجسٹریٹ سے اجازت حاصل کرتا ہے۔ 2017ء میں 4030 شکایات آئیں، 102 ایف آئی آرز درج ہوئیں اور 83 افراد گرفتار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ریکارڈ مانگا جائے گا وہ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کو بہتر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیا قانون ہے، تمام ادارے اتنے تجربہ کار نہیں کہ وہ سپام(spam) کی اصطلاح کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ساتھیوں نے تاثر دیا کہ اس بل کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اسے نہیں بننا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو ضرور بننا چاہئے تھا، حکومت آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے حق میں نہیں ہے اور نہ ہی اس قانون کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا ارادہ ہے تاہم آزادی اظہار رائے کی بھی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here