وزارت داخلہ کی سنگین غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست منظور

 
0
355

اسلام آباد نومبر 27 (ٹی این ایس): اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئین شکنی کیس میں وزارت داخلہ کی درخواست منظور کر لی ہے۔تفسٰلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے حوالے سے سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کچھ دیر قبل کیس سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے وزرات داخلہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا جس کے بعد خصوصی عدالت کل اس کیس کا فیصلہ نہیں سنائے گی،پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی گئی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ہمارے سامنے اس شخص کا مقدمہ ہے جس نے عدلیہ پر وار کیا اور اشتہاری بھی ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بہت مشکل کیس ہے۔اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں،بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ مذکورہ کیس مزاحیہ بھی ہے۔پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ کے مستعفی ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے ایک سال سے کوئی تقرری نہیں کی۔
جسٹس اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی حکومت اس مقدمے میں دلچسپی نہیں لے رہی اور نہ پرویز مشرف کے خلاف کیس چلانا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ منگل کو چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پرویزمشرف کے خلاف خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے سے متعلق متفرق درخواستوں پرسماعت کی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے 2013 میں پراسکیوشن ٹیم بننے کا بتایا ، بنچ نے پوچھا کہ کیا آپ کوسپریم کورٹ کے احکامات کا پتہ ہی آپ کووفاقی حکومت ہیں حقائق کا پتہ ہونا چاہیے تھا ،عدالت نے وزارت داخلہ کے نمائندے کوسپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کرسنانے کا کہا۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اگرڈیفنس شامل نہیں توقانون کیا کہتا ہے اورکیا ٹرایبونل کا نوٹیفکیشن ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کچھ دیرپہلے ہی فائل ملنے کا بتایا تو چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوحقائق کا پتا ہی نہیں ، کسی ایسے بندے کوبلائیں جوکیس کا پس منظرجانتا ہو، وزارت قانون وانصاف سے نمائندہ بلا لیں جس کوسارا علم ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت پرویزمشرف کی نہیں صرف وزارت داخلہ کی درخواست دیکھیں گے ،پرویزمشرف قانون کے مطابق اشتہاری ہیں، عدالت نے سیکرٹری قانون وانصاف کوریکارڈ کیساتھ بدھ کوطلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کی تھی۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 19 نو،بر کو محفوظ کیا تھا جو9 دن بعد سنایا جائے گا۔
پرویز مشرف نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ معطل کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ خصوصی عدالت نے 19 نومبر کو موقف سنے بغیر غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے، میں بیماری کی وجہ سے بیرون ملک زیر علاج مقیم ہوں اورعدالت میں اپنا موقف پیش نہیں کرسکا۔ ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم معطل کیا جائے، غداری کیس کی سماعت تندرست ہونے تک ملتوی اور صحت کے تعین کے لیے غیر جانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا جائے۔پرویز مشرف نے اپنی درخواست میں یہ استدعا بھی کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیس کو دوبارہ سماعت کیلئے شروع کیا جائے۔