سیاسی بھرتیوں کا معاملہ 

0
228

جاوید ملک /شب وروز

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں تمام سرکاری اداروں میں ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح بانٹی گئیں اور قواعد و ضوابط کی جس دیدہ دلیری کے ساتھ دھجیاں اُڑائی گئیں اس کی نظیر ماضی قریب میں ڈھونڈ نا مشکل ہے ۔ پیپلز پارٹی نے سابقہ عام انتخابات میں اپنے تاریخی نعرے روٹی ،کپڑا اور مکان کے ساتھ چونکہ روزگار کا بھی اضافہ کردیا تھا اس لیئے ان کے پاس یہ دلیل موجود ہے کہ انہوں نے اپنے منشور پر عمل کیا تھا میں خود اس کا قائل ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہیے مگر ان کی قیمت حق تلفی ہر گز نہیں ہونی چاہیے جب بھی اقربا پروری کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں ان کے نتیجے میں محرومی جنم لیتی ہے اور یہ محرومی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انارکی کا روپ دھارلیتی ہے ۔

جب حکمران غلط روش اختیار کرتے ہیں تو بیورو کریسی کی عید ہوجاتی ہے سرکاری اداروں میں موجود جی حضورئیے اپنی کاری گری دکھاتے ہیں اور یوں بدنامی کی گٹھڑی اُٹھانے والے سیاست دان اپنے چند چہیتوں کو نوازنے کے زعم میں در حقیقت اس مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن جاتے ہیں پھر یہ اپنا الّو ایسا سیدھا کرتے ہیںکہ الامان۔

ای او بی آئی میں سیاسی تقرریوں کے مقدمہ میں اعلٰی عدلیہ کا فیصلہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اگرچہ اس فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوسکا کیونکہ معزز عدالت نے سیاسی بھرتی کرنے والے تمام ذمہ داران کیخلاف بھی ضابطے کی کاروائی کا حکم دیا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں سیاسی بھرتیوں کے معاملہ میں فیصلہ اگرچہ نسبتاً رحمدلانہ ہے شاید منصف نے انیس سو کے قریب ان ملازمین کو ایک موقعہ اس لیئے دیا ہے کہ ان میں سے بعض ممکن ہے درست طریقہ کار سے بھرتی ہوئے ہو ںاور چیئرمین این ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ ان کی ذاتی شنوائی کے بعد وہ اپریل کے پہلے ہفتہ تک عدالت عظمیٰ کو اپنی رپورٹ پیش کریں لیکن خبر یہ ہے کہ اکثریتی ملازمین ذاتی شنوائی کیلئے تیار نہیں اور قلم چھوڑ ہڑتال کے بعد اب وہ ایک بڑے مورچے کی تیاری میں مشغول ہیں ۔

این ایچ اے کے نو تعینات چیئر مین جواد رفیق ملک انتہائی شریف النفس انسان ہیں ۔سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا محاورہ ان پر صادق آتا ہے کیونکہ چیئرمین کی کرسی سنبھالتے ہی مسائل کے ایک گرداب نے انہیں گھیر لیا ہے بالخصوص اس معاملہ میں کہ جب انیس سو کے لگ بھگ ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے تو برطرفی کے قریب تر ہوتے اس جم غفیر کا غل غپاڑہ ، سیاسی دباﺅ اور پھر عدالت عظمّٰی کا رعب یہ سب کسی کے لئے بھی اعصاب شکن ہی ہوگا لیکن اگر وہ فیصلہ کرتے وقت اقرباءپروری کے نتیجہ میں ہونے والی حق تلفیاں یاد کرلیں تو شاید یہ مشکل مرحلہ کچھ آسان ہوجائے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ معمولی ملازمتوں پر تعیناتی لینے والے افراد کو ہمدردانہ نگاہ سے دیکھنا چاہیے مگر چور دروازے سے اعلیٰ ملازمتوں کے مزے لوٹنے والوں اور ان کےلئے سہولت کاری کرنے والوں سبھی کیلئے برطرفی بہت معمولی سزا ہے ان کی اصل جگہ تو اڈیالہ جیل ہے ۔

مجھے یادہے این ایچ اے میں جس وقت بھرتیوں کی یہ منڈی سجی ہوئی تھی تو دو شخصیات بہت نمایاں تھیں ایک اس وقت کے ممبر ایڈمن رانا نصیر اور دوسرے ڈائریکٹر ایچ آر برکت علی انہوں نے سیاست دانوں کو تو خوش کیا ہی بہتی گنگا میں خود بھی جی بھر کر ہاتھ دھوئے ۔رانا نصیر کے آبائی علاقہ ڈنڈے والا پل ،فیصل آباد کے بھرتی ہونے والے بے شمار لوگ اس کی ایک مثال ہیں برکت علی نے بھی دور نزدیک کا کوئی رشتہ دار نہ چھوڑا جو اس موقعہ سے فائدہ نہ اُٹھا ئے یوں ادارے کو غیر ضروری بھرتیوں سے اَٹ دیا گیا ۔ طے شدہ منصوبے کے تحت یہ کنڑیکٹ پر بھرتی ہونے والے بعد ازاں مستقل ہوگئے اور یوں دو زیادتیاں کی گئیں ایک توپہلے سے مستقل ملازمین کی ترقی کے سارے راستے بند کردیے گئے اور دوسرا سفارشی ، تعلق داری اور رشوت کو میرٹ بنا کر حق داروں سے حق چھین نہیں بلکہ نوچ لیا گیا اور اگر آج یہ کہانی ملازمین کی برطرفی تک ہی رہ جاتی ہے یا ان کی حیثیت مستقل سے دوبارہ عارضی کرکے انہیں ریلیف دے دیا جاتا ہے اور اس گھناﺅنے کھیل کے اصل ذمہ دار شکنجے میں نہیں آتے تو یہ نظریہ ضرورت ہوسکتا ہے اسے انصاف کا درجہ ہر گز ہرگز نہیں دیا جاسکتا ۔

کوئی تو حرف آغاز ہونا چاہیے ، ہم بگاڑ کی ساری حدیں پھلانگ چکے ،یہ درست کہ اب سب کچھ گنجل بن چکا ہے مگر ہمیں کہیں سے تو درستگی کا آغاز کرنا ہوگا ۔سالوں ملازمت کے بعد اگر کسی کے ہاتھ برطرفی کا پروانہ تھما دیا جائے تو اس سے ہمدردی یقینا بنتی ہے مگر ہماری یہ ہمدردی کبھی بھی چور دروازے بند نہیں ہونے دے گی اور اگر غلطی پر ندامت کے بجائے ڈھٹائی کا رویہ دیکھنے میں آئے تو ہمدردی بھی بال اوڑھ کر سوجاتی ہے ۔ جب صفائی اور درستگی کا عمل شروع ہوہی گیا ہے تو جناب چیئرمین حال ہی میں کنڑیکٹ ملازم عاصم امین کو مستقل کرکے ترقی دینے کے مشکوک عمل کو بھی اگر بروقت درست کرلیا جائے تو اس سے ادارے کی ساکھ مزید بہتر ہوگی یہ ساری کڑوی گولیاں ایک ہی بار نگل لیں تو این ایچ اے کی قرضوں تلے ڈوبی گاڑی کم از کم درست سمت میں روّاں دوّاں ہو جائے گی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here